آپ کا سلاماردو غزلیاتاظہر عباس خانشعر و شاعری

دیارِ عشق سے آئی ندائے کن فیکون

اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل

دیارِ عشق سے آئی ندائے کن فیکون
سو خود کو پیش کیا ہے برائے کن فیکون

خیالِ یار ہے اور شعر ہو نہیں رہے ہیں
بہت شدید گھٹن ہے ہوائے کن فیکون

دلیل و عقل سے کہہ دو کہ باز آ جائیں
جہان کچھ بھی نہیں ہے سوائے کن فیکون

ادھر میں سوچوں ادھر سامنے تو آ جائے
میں ڈھونڈتا ہوں اک ایسی فضائے کن فیکون

طلب جو دیکھی مری نت نئے جہانوں کی
دکھائی اس نے مسلسل ادائے کن فیکون

مجھے بتا مرے عادل کہ میں تو تھا ہی نہیں
تو پھر میں کس لیے بھگتوں سزائے کن فیکون

خدا کے ساتھ مرا بھی ظہور تھا اظہر
وہ کیا کمال کا لمحہ تھا۔۔ ہائے!!!! کن فیکون

اظہر عباس خان

post bar salamurdu

اظہر عباس خان

اظہَر عبّاس خان کا شمار اُن معاصر شعرا میں ہوتا ہے جن کے ہاں روایت کی گہرائی اور جدّت کی لطافت دونوں یکجا نظر آتی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف کلاسیکی اردو غزل کے اسلوب سے جڑا ہوا ہے بلکہ اس میں مذہبی، صوفیانہ، عاشورائی اور رومانوی حسّیت کا ایک ایسا امتزاج بھی پایا جاتا ہے جو قاری کے ذہن و دل پر بیک وقت وجد اور تفکّر کی کیفیت طاری کرتا ہے۔ ان کا شعری سفر دراصل ایک داخلی جہان کی تلاش ہے جس میں اظہار کی سچّائی، جذبے کی شدّت اور زبان کی صفائی بنیادی عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button