آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزشاہد نسیم چوہدری

کیپٹن۔عباس خان شہید

شاہد نسیم چوہدری کا ایک اردو کالم

shahid naseem chaudhry

کیپٹن۔عباس خان شہید کی وردی باپ کے سپرد — ایک منظر، قوم کے لیے سبق

یہ صرف ایک منظر نہیں، ایک عہد ہے
ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں آپریشنل ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے کیپٹن عباس خان شہید ہو گئے۔ پشاور میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ خبر چند سطروں پر مشتمل تھی، مگر اس خبر کے اندر ایک باپ کی پوری زندگی، ایک ماں کی ساری دعائیں، اور ایک قوم کی خاموش نیند دفن تھی۔
وہ لمحہ…
جب ایک اعزازی تقریب میں شہید بیٹے کی وردی اس کے باپ کے ہاتھوں میں دی گئی۔
وہ مضبوط باپ…
وہ جس نے بیٹے کو سینے سے لگا کر کہا تھا: “بیٹا، وطن تمہیں بلائے تو پیچھے مت دیکھنا۔”
وہی باپ…
وردی دیکھتے ہی بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔
کیونکہ وہ وردی صرف کپڑا نہیں تھی۔
وہ اس کے جگر کے ٹکڑے کی آخری نشانی تھی۔
وہ اس بیٹے کی خوشبو تھی جو اب لوٹ کر نہیں آئے گا۔
وہ وہ لمس تھا جسے باپ اب کبھی محسوس نہیں کر سکے گا۔
یہ وہ منظر ہے جس پر پتھر دل بھی پگھل جائیں۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا سب کے دل پتھر کے نہیں ہو چکے؟
آج اس ملک میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ان مناظر پر رو نہیں پاتا، بلکہ بھونکنے لگتا ہے۔
جی ہاں! بھونکنے لگتا ہے۔
اپنی پاک فوج پر، اپنے شہیدوں پر، اپنے محافظوں پر۔
ذرا بتاؤ!
کیا تم نے کبھی وہ رات دیکھی ہے جو بارڈر پر گزرتی ہے؟
کیا تم نے کبھی برفانی ہواؤں میں بندوق تھام کر، موت کی آہٹ سنتے ہوئے، ماں کی دعا کو سینے سے لگا کر کھڑا رہنا سیکھا ہے؟
کیا تم نے کبھی اپنے بیٹے کو یہ کہتے سنا ہے:
“ابا دعا کرنا، اگلی کال شاید نہ آ سکے”؟
نہیں!
تم نے نہیں دیکھا۔
تم نے صرف ٹوئٹ کی ہے۔
تم نے صرف فیس بک اسٹیٹس لگایا ہے۔
تم نے صرف اے سی کمروں میں بیٹھ کر سوال اٹھائے ہیں۔
یاد رکھو!
پاک فوج کے جوان تنخواہ کے لیے نہیں، وطن کے لیے مرتے ہیں۔
وہ اپنی جوانی، اپنی نیندیں، اپنی عیدیں، اپنی خوشیاں
تمہاری محفوظ راتوں پر قربان کر دیتے ہیں۔
تم آرام سے سو سکو،
اس لیے وہ جاگتے ہیں۔
تم سکون سے بول سکو،
اس لیے وہ خاموشی سے جان دے دیتے ہیں۔
اور تم؟
تم ان ہی کے لہو پر سوال اٹھاتے ہو؟
جن ماؤں کی گود اجڑ گئی،
جن باپوں کے سہارے قبروں میں سو گئے،
جن بہنوں کے خواب سبز ہلالی پرچم میں لپٹ گئے—
تم ان قربانیوں پر کیچڑ اچھالتے ہو؟
شرم نام کی کوئی چیز باقی ہے تم میں؟
سنو!
جس دن یہ وردی نہ رہی خدانخواسطہ ،
جس دن یہ سپاہی نہ رہے خدانخواسطہ،
اس دن تمہارے زہریلے لفظ بھی تمہیں بچا نہ سکیں گے۔
یہ پاک فوج ہے
جو اپنے جوانوں کی شہادت دے کر
قوم کو محفوظ اور سرخرو رکھتی ہے۔
اور جو اس پر انگلی اٹھاتے ہیں،
تاریخ ان کے نام شرمندگی کے ساتھ لکھتی ہے۔
ان کے لفظ مٹ جاتے ہیں،
ان کی آوازیں شہادت کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں،
اور وہ خود اپنے انجام کا مذاق بن جاتے ہیں۔
اے بھونکنے والو!
تم سے بہتر تو وہ جانور ہیں جو اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔
کم از کم وہ وفادار تو ہوتے ہیں۔
اگر ذرا سی بھی ہمت ہے
تو ایک دن بارڈر پر آ کر دیکھو۔
چند گھنٹے نہیں،
چند منٹ ہی سہی—
گولی کی سیٹیوں کے درمیان
کھڑے رہ کر دیکھو۔
اگر خود نہیں آ سکتے
تو اپنے بیٹے کو بھیج کر دیکھو!
ماں کی دعا سینے میں،
باپ کی تصویر جیب میں،
اور وطن کا نام ہونٹوں پر رکھ کر
کھڑے رہنے کا حوصلہ پیدا کرو—
پھر زبان چلانا۔
یہاں ٹوئٹ نہیں چلتے،
یہاں فیس بک اسٹیٹس نہیں بچاتے،
یہاں صرف غیرت، حوصلہ اور جان کام آتی ہے۔
تم گندے لفظوں کے بیوپاری ہو،
اور وہ نیک لہو کے سپاہی۔
فرق اتنا ہے کہ
تم محفوظ ہو ان کی وجہ سے،
اور وہ شہید ہوتے ہیں
تمہاری وجہ سے بھی!
لہٰذا لعنت ہے ایسی زبانوں پر،
لعنت ہے ایسی سوچ پر،
اور شرم ہونی چاہیے ان چہروں کو
جو باپ کی بے ہوشی،
ماں کے بین،
اور شہید کی وردی پر بھی
زہر اگلنے سے باز نہیں آتے۔
یاد رکھو!
پاک فوج کے جوان مرتے نہیں،
قوم کی رگوں میں زندہ ہو جاتے ہیں۔
اور تم؟
تم صرف وہ بے ہنگم شور ہو—
جو قربانی اور شہادت کی گونج میں
ہمیشہ دب جاتا ہے۔
کیپٹن عباس خان شہید
صرف ایک نام نہیں،
وہ ایک عہد ہیں،
وہ ایک پیغام ہیں،
وہ ایک سوال ہیں
جو ہر ضمیر سے پوچھ رہے ہیں:
“کیا تم اس وردی کے قابل ہو؟”
آخر میں بس اتنا ہی کہنا ہے کہ
یہ جو سوشل میڈیا کے مورچوں میں بیٹھے
لفظوں سے جنگ لڑنے والے خود ساختہ انقلابی ہیں نا،
یہ کبھی اس وردی کا وزن نہیں سمجھ پائیں گے
جو باپ کے ہاتھ میں آئی تو وہ بے ہوش ہو گیا۔
انہیں لگتا ہے ملک ٹوئٹس سے بچتا ہے،
ریاست فیس بک اسٹیٹس سے چلتی ہے،
اور سرحدیں زبان درازی سے محفوظ رہتی ہیں۔
یہ بھول جاتے ہیں کہ
گندے الفاظ صرف بے ہنگم شورہی مچا سکتے ہیں،
مگر وطن صرف وہی بچاتے ہیں
جو خاموشی سے وطن پر قربان ہو جاتے ہیں۔
کیپٹن۔عباس خان شہید کی وردی
باپ کے سپردگی کا
—ایک منظر، قوم کے لیے ایک سبق ہے۔
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ

شاہد نسیم

post bar salamurdu

شاہد نسیم چوہدری

2001 سے فیصل آباد سے صحافی، کالم نگار، فیچر رائٹر اور انٹرویور۔ صدر ورلڈ کالمسٹ کلب فیصل آباد ڈویژن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button