اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے

ناہید ورک کی اردو غزل

آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے
ہر پل دمک رہی ہوں میں اُن کی روشنی سے
ہونٹوں پہ میرے کیسے ہیں راگ سرمدی سے
جھرنے سے پھوٹتے ہیں لہجے کی نغمگی سے
تُو درد بھی دعا بھی، تُو زخم بھی دوا بھی
شکوے بھی ہیں تجھی سے اور پیار بھی تجھی سے
مجھ سے کبھی ملو تو، چپکے سے پوچھنا تم
منظر سے ہٹ گئی کیوں ناہید خامشی سے
کیسے تجھے بتائیں، کیسے تجھے دکھائیں
دل زخم زخم کتنا ہے تیری دوستی سے
تُو شام بن کے آیا، تُو رات بن کے چھایا
وہ بے خودی ہے مجھ پر، ہوں دُور زندگی سے
اوراقِ زندگی پر سب داستاں رقم ہے
کیوں ایسے جی رہی ہے ناہید بے دلی سے

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button