آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریضمیر قیس

کسی روشنی پہ بھی اعتماد

ضمیر قیس کی ایک اردو غزل

کسی روشنی پہ بھی اعتماد نہیں رہا
میں چراغ ہوں مجھے خود بھی یاد نہیں رہا
تجھے فکر ہے تری چھتریاں نہیں بِک رہیں
مجھ دکھ ہے عرصۂ ابر و باد نہیں رہا
کوئی ہو جو آگ بجھانے والوں کے ساتھ ہو
جو کہے زمین پہ اب فساد نہیں رہا
میں دھویں کو کر کے نہ دیکھ لوں ذرا معتبر ؟
کہ غبار تو مرا ہم نژاد نہیں رہا
یہاں شاہراہِ ہجوم ہے یہ حیات بھی
سو تجاوزات کا انسداد نہیں رہا
یہ تجوریوں کے خدا سے شرک نہ ہو کہیں
سبھی چابیوں میں جو اب تضاد نہیں رہا
کوئی گھونسلہ نہ اٹھا سکیں مری ٹہنیاں
میں شجر ہوا بھی تو اتنا شاد نہیں رہا
میں یہ سوچتا ہوں کریں گے کیا ترے بد خبر
جنہیں معجزوں سے بھی اب مفاد نہیں رہا
یہ اداس تنہا سے لوگ ہیں جو ضمیر اِنہیں
کبھی عشق تھا بھی تو نامراد ، نہیں رہا

ضمیر قیس

post bar salamurdu

ضمیر قیس

ضمیرقیس ملتان سے تعلق رکھنے والا شاعر ہے غزلوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں اس کے پہلے مجموعے سے ہی اس کی غزل اٹھان نے ثابت کردیا تھا کہ ملتان سے غزل کا ایک اہم شاعر منظر عام پر آرہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button