- Advertisement -

ایسی تنہائی کہ دشمن ہے نہ محرم کوئی

بہنام احمد کی ایک اردو غزل

ایسی تنہائی کہ دشمن ہے نہ محرم کوئی
جس جگہ میں ہوں نہیں دوسرا آدم کوئی

ہم ترے لمس کے مہکائے ہوئے ہیں ، ورنہ
کاغذی پھول ہیں _خوشبو نہیں پیہم کوئی

میں تری سوچ پہ ہنس سکتا ہوں ، لیکن ، دکھ ہے
مسکرانے کا مہینہ ہے محّرم کوئی ؟

ہجر کا گھاؤ مرے دل میں ابھی تازہ ہے
ڈھونڈتا پھرتا ہوں اس زخم کا مرہم کوئی

روز اک طاق میں جلتا ہے دیا یادوں کا
روز کرتا ہے ترے نام پہ ماتم کوئی

زندگی ایسے مرے ساتھ خفا رہتی ہے
جیسے بگڑے ہوئے بچے پہ ہو برہم کوئی

ایک دریا ہے ، ترے خواب ہیں ، کچھ یادیں ہیں
کاسہِ چشم میں آباد ہے عالم کوئی

بہنام احمد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
بہنام احمد کی ایک اردو غزل