ساغر صدیقی کا کرب اور آج کا معاشرہ
پیر انتظار حسین مصور کی ایک اردو تحریر
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں: ساغر صدیقی کا کرب اور آج کا معاشرہ
ساغر صدیقی اردو شاعری کا وہ درویش ہے جس کے ہر لفظ میں ایک پوری کائنات کا دکھ چھپا ہے۔ ساغر کی شاعری محض تخیل نہیں، بلکہ ان کی اپنی زندگی کا نچوڑ اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہے۔ ان کی یہ غزل ان لوگوں کا نوحہ ہے جو اس ظاہری دنیا کی چکا چوند میں اپنے اندر کی روشنی کھو بیٹھے ہیں۔ ساغر کہتے ہیں:
یہ جو دیوانے سے دو چار نظر آتے ہیں
ان میں کچھ صاحبِ اسرار نظر آتے ہیں
آج کے معاشرے میں جسے ہم "دیوانہ” کہتے ہیں، اصل میں وہی صاحبِ اسرار ہے۔ ہم سب اس معاشرتی "محفل” کا حصہ ہیں، جہاں ہر شخص ایک نقاب پہنے ہوئے ہے۔ ہم سب اپنی انا اور دنیا داری کا بھرم رکھے ہوئے ہیں، مگر حقیقت میں ہمارا شعور سو چکا ہے۔ ساغر کا قلم اس معاشرے کی نبض پر ہے جہاں امید کا کوئی ستارہ باقی نہیں رہا:
دور تک کوئی ستارہ ہے نہ کوئی جگنو
مرگِ اُمید کے آثار نظر آتے ہیں
یہ غزل ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جب انسان اپنے اندر کے دیئے بجھا دیتا ہے تو باہر بھی اسے اندھیروں کے سوا کچھ نہیں دکھائی دیتا۔ ساغر کا درد محض ذاتی نہیں، یہ ہر اس شخص کا دکھ ہے جس نے اپنے آپ کو بازارِ دنیا میں نیلام ہوتے دیکھا ہے۔ کل جو وجود پاکیزہ تھے، آج ان کی رونق بازاروں میں سجی ہے:
کل جنہیں چھو نہیں سکتی تھی فرشتوں کی نظر
آج وہ رونقِ بازار نظر آتے ہیں
اے قاری! کیا کبھی سوچا ہے کہ ہم کس بازار کے سوداگر بن گئے ہیں؟ ساغر کے دامن میں شراروں کے سوا کچھ نہیں، اور ہم پھولوں کے خریدار بنے پھرتے ہیں۔ یہ کیسی منافقت ہے کہ
ہم بیدار ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں، مگر حقیقت میں ہم سب اس گہری نیند میں ہیں جس سے جاگنا محال ہے۔ ساغر کی آواز آج بھی ہمیں پکار رہی ہے، مگر کون سنے؟ یہاں تو سب اپنی غرض کے اسیر ہیں۔ ساغر کا یہ شعر آج کے ہر بے بس انسان کی کہانی ہے:
حشر میں کون گواہی مری دے گا ساغر
سب تمہارے ہی طرفدار نظر آتے ہیں
یہ غزل صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ ایک نوحہ ہے اس درویش کا جس نے اپنوں کی بے وفائی اور زمانے کی سنگ دلی کو سہا۔ ساغر ہمیں آئینے میں اپنا چہرہ دکھانے کی دعوت دے رہا ہے۔ کیا ہم واقعی بیدار ہیں یا محض ایک خواب کی تعبیر ڈھونڈ رہے ہیں؟ اس کلام کا درد یہی ہے کہ سچ بولنے والے کو تنہا کر دیا گیا ہے اور جھوٹ کے طرفدار ہر طرف نظر آتے ہیں۔ کاش ہم ساغر کے اس درد کو سمجھ سکیں، کیونکہ جو درد کو نہیں سمجھتا، وہ انسان کہلانے کا حق نہیں رکھتا۔
پیر انتظار حسین مصور







