آپ کا سلاماردو غزلیاتحارث بلالشعر و شاعری

کہیں دیوار، کہیں چھت، کہیں در

حارث بلال کی ایک اردو غزل

کہیں دیوار، کہیں چھت، کہیں در جیسا تھا
تیری شاخوں کا وہ حلقہ مجھے گھر جیسا تھا

اس کی آنکھوں میں ہے ایسا کوئی نقشہ محفوظ
جھانک لینے کا تاثر بھی سفر جیسا تھا

دور جاتا تھا تو بڑھتی تھی مری بینائی
وہ جو اک شخص مری حدِ نظر جیسا تھا

زندگی میں ترے ہمراہ گزارا ہوا وقت
کوئی پودا تھا جو صحرا میں شجر جیسا تھا

جیسے طوفان کا امکان سمندر میں رہے
مرے دل میں ترا ہونا کسی ڈر جیسا تھا

جمع ہوتے ہوئے لوگوں سے شکایت تھی اسے
شہر میں جس کا نکل آنا خبر جیسا تھا

اس کے دم مرے اپنوں کا بھرم تھا قائم
میرا اِک عیب زمانے میں ہنر جیسا تھا

حارث بلال

post bar salamurdu

حارث بلال

حارث بلال 1993دسمبر میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2014 میں شاعری کا آغاز کیا۔ ان کا شعری مجموعہ "ہم شجر" نومبر 2025 میں شائع ہو چکا ہے۔ تعلیمی حوالے سے ایم فل کی ڈگری لمز یونیورسٹی لاہور سے حاصل کر چکے ہیں اور گولڈ میڈل کے حامل ہیں۔ تا حال وہ نمل یونیورسٹی میانوالی میں اسسٹنٹ رجسٹرار کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button