کہیں دیوار، کہیں چھت، کہیں در جیسا تھا
تیری شاخوں کا وہ حلقہ مجھے گھر جیسا تھا
اس کی آنکھوں میں ہے ایسا کوئی نقشہ محفوظ
جھانک لینے کا تاثر بھی سفر جیسا تھا
دور جاتا تھا تو بڑھتی تھی مری بینائی
وہ جو اک شخص مری حدِ نظر جیسا تھا
زندگی میں ترے ہمراہ گزارا ہوا وقت
کوئی پودا تھا جو صحرا میں شجر جیسا تھا
جیسے طوفان کا امکان سمندر میں رہے
مرے دل میں ترا ہونا کسی ڈر جیسا تھا
جمع ہوتے ہوئے لوگوں سے شکایت تھی اسے
شہر میں جس کا نکل آنا خبر جیسا تھا
اس کے دم مرے اپنوں کا بھرم تھا قائم
میرا اِک عیب زمانے میں ہنر جیسا تھا
حارث بلال








