A True Salam To Urdu Literature

Usse Apni Nigahoon Mein

An Urdu Ghazal By Ayub Sabir

اُسے اپنی نگاہوں میں بڑا رہنے دیا ہوتا
وہ ضدی ہے اُسے ضد پر اَڑا رہنے دیا ہوتا

جو صدیوں سے مری تہذیب کی گویا علامت ہے
وہ گھر میں ایک مٹی کا گھڑا رہنے دیا ہوتا

جو تیرے ہاتھ کی انگلی میں زینت کا سبب ٹھہرا
نگینہ وہ انگھوٹھی میں جڑا رہنے دیا ہوتا

کسی مفلس کو دھکا مار کے چلنا نہیں اچھا
بھکاری تھا اُسے رہ میں کھڑا رہنے دیا ہوتا

جو مٹی سے جدا ہونے پہ راضی ہی نہیں یارو
وہ پتھر خاک کے اندر پڑا رہنے دیا ہوتا

کڑے وقتوں کے بارے میں کبھی جو سوچ آئی تھی
تو گھر میں کوئی سونے کا کڑا رہنے دیا ہوتا

مرے معصوم جذبوں کا بہایا خون ہو جس نے
وہ ناوک کیسے سینے میں گڑا رہنے دیا ہوتا

ابھی وہ بیج ہے صابرؔ اُسے کیونکر نکالا ہے
زمیں کی گود میں اُس کو پڑا رہنے دیا ہوتا

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
An Urdu Ghazal By Ayub Sabir