اردو غزلیاتاکرام عارفیشعر و شاعری

شب کہ حیران کر گئے مرے اونٹ

اکرام عارفی کی ایک اردو غزل

شب کہ حیران کر گئے مرے اونٹ
صبح صحرا سے بھر گئے مرے اونٹ

ریت مہکی تو گنگنانے لگے
چلتے چلتے ٹھہر گئے مرے اونٹ

جبل طارق پہ دیکھ کر گھوڑے
پانیوں میں اتر گئے مرے اونٹ

سجنے والا تھا کمبھ کا میلہ
آئنہ دیکھ کر گئے مرے اونٹ

خشک ہونٹوں سے معذرت کر لی
دل کے صحرا میں مر گئے مرے اونٹ

ریت کے اس قدر شناور تھے
نخل دیکھے تو ڈر گئے مرے اونٹ

اور بھی راستے تھے گھر کی طرف
ریت پر چل کے گھر گئے مرے اونٹ

ایک بھی سیدھی کل نہیں اکرامؔ
اپنے اجداد پر گئے مرے اونٹ

اکرام عارفی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button