- Advertisement -

جب اک ستارا گرا اور جل گیا مجھ میں

ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا

جب اک ستارا گرا اور جل گیا مجھ میں
گماں ہوا کہ پٹاخہ سا چل گیا مجھ میں

سب اس کے سامنے خرگوش کی طرح بھاگے
مگر وہ کچھوا تھا آگے نکل گیا مجھ میں

اب ایک شعلہ لپکتا ہے خالی برتن سے
وگرنہ دودھ تو کب کا ابل گیا مجھ میں

طلائی شخص نے یوں آخری کلام کیا
وہ مرتے مرتے بھی سونا اگل گیا مجھ میں

سکوت – خواب میں محو – سفر ہوا تھا چراغ
پھر اس کا پاوں اچانک پھسل گیا مجھ میں

دعا نے رنگ دکھایا کسی پرندے کی
درخت گرتے ہوئے بھی سنبھل گیا مجھ میں

تمہاری یاد بھی بچوں کا کھیل ہے شاید
یہ گیند بارہا آکر اچھل گیا مجھ میں

میں ایک اشک گرایا تھا اپنی آنکھوں سے
مگر یہ آئینہ تو پھول پھل گیا مجھ میں

عاطف کمال رانا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا