- Advertisement -

تم کو واپس بلاتی پکاروں کے دکھ

ایک اردو غزل از منیر جعفری

تم کو واپس بلاتی پکاروں کے دکھ تم نہیں جانتے
پاؤں پڑتے ہوئے چپ کے ماروں کے دکھ تم نہیں جانتے

جب ضرورت کی مقدار بڑھتی ہے سب ڈوبنے لگتے ہیں
ہم نشیبوں کے آباد کاروں کے دکھ تم نہیں جانتے

ایک اونچائی پر خود کو تسلیم کرتی مسرت کے بعد
نیچے گرتے ہوئے آبشاروں کے دکھ تم نہیں جانتے

ایک عرصہ یہاں زندگی اپنی تولید کرتی رہی
ان کھنڈر اوڑھتے سبزہ زاروں کے دکھ تم نہیں جانتے

کتنی دنیائیں تسخیر ہونے کی خواہش میں بےتاب ہیں
ان پہاڑوں میں موجود غاروں کے دکھ تم نہیں جانتے

ہم سماجی غلاموں پہ اپنے لیے سوچنا بند ہے
ایک سورج کے ہوتے ستاروں کے دکھ تم نہیں جانتے

تم نہیں جانتے پست ذہنوں کے مابین فکرِ رسا
کھائیوں میں گھرے کوہساروں کے دکھ تم نہیں جانتے

مونالیزا کی مسکان اسکے بدن کا خلاصہ نہیں
دیکھنے والو ان شاہکاروں کے دکھ تم نہیں جانتے

میں نے غالب کو دلی کا پرسہ دیا فیض گویا ہوئے
میرے بچے ابھی میرے یاروں کے دکھ تم نہیں جانتے

بانوئے صبح حب روشنی کی رسد روکتی ہے منیر
وقت کو پیش آتے خساروں کے دکھ تم نہیں جانتے

منیر جعفری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
لعل ڈنو شنبانی کا ایک اردو کالم