اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

عجب صحبت ہے کیونکر صبح اپنی شام کریے اب

میر تقی میر کی ایک غزل

عجب صحبت ہے کیونکر صبح اپنی شام کریے اب
جہاں ٹک آن بیٹھے ہم کہا آرام کریے اب

ہزاروں خواہش مردہ نے سر دل سے نکالا ہے
قیامت جی پہ ہے دیدار کو ٹک عام کریے اب

بلا آشوب تھا گو جان پر آغاز الفت میں
ہوا سو تو ہوا اندیشۂ انجام کریے اب

بہت کی یاصنم گوئی ہوئے مشہور کافر ہم
وظیفہ کوئی دن اپنا خدا کا نام کریے اب

زباں خامہ کے ہلتے ہی ہزاروں اشک گرتے ہیں
حقیقت اپنے دل کی آہ کیا ارقام کریے اب

کہاں تک کام ناکام اس جفا جو کے لیے مریے
اگر تلوار ہاتھ آوے تو اپنا کام کریے اب

فسانہ شاخ در شاخ اس نہال حسن کے غم کا
کہاں اے میر بے برگ و نوا اتمام کریے اب

میر تقی میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button