آپ کا سلاماردو غزلیاتتہمینہ مرزاشعر و شاعری

میں نے سوچا کچھ ایسا نصاب لکھتے ہیں

تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل

میں نے سوچا کچھ ایسا نصاب لکھتے ہیں
میرا عنوان تم ہو ایسی کتاب لکھتے ہیں

جو اس نے کہا،جو أس نے پوچھا
جلنے والوں کے سب سوالوں کا جواب لکھتے ہیں۔

جو بیاں نہ ہووے ہو حقیقت میں
وہ سب خیال وہ سارے خواب لکھتے ہیں

جو بیٹھے ہیں دائیں بائیں کندھوں پر
یہ میری جاں بس حساب لکھتے ہیں

ادب ملحوظ رکھتے ہے کچھ ایسے
ہم ہمیشہ انہیں جناب لکھتے ہیں

جو جیے جائے بن محبت کے چلو، تہمینہ
ایسے ویسوں کا خانہ خراب لکھتے ہیں

تہمینہ مرزا

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button