اردو غزلیاتشاہد ذکیشعر و شاعری

میں اپنے حصے کی تنہائی محفل سے نکالوں گا

شاہد ذکی کی ایک اردو غزل

میں اپنے حصے کی تنہائی محفل سے نکالوں گا
جو لا حاصل ضروری ہے تو حاصل سے نکالوں گا

مرے خوں سے زیادہ تو مری مٹی میں شامل ہے
تجھے دل سے نکالوں گا تو کس دل سے نکالوں گا

مجھے معلوم ہے اک چور دروازہ عقب میں ہے
مگر اس بار میں رستہ مقابل سے نکالوں گا

شبیہوں کی طرح قبریں مجھے آواز دیتی ہیں
میں عکس رفتگاں آئینہ گل سے نکالوں گا

ہجوم سہل انگاراں مرے ہم راہ چلتا ہے
میں جیسے راہ آساں راہ مشکل سے نکالوں گا

بھرم سب کھول کے رکھ دوں گا مصنوعی محبت کے
کوئی تازہ فسانہ دشت و محمل سے نکالوں گا

تمہیں اب تیرنا خود سیکھ لینا چاہیے شاہدؔ
تمہیں کب تک میں گرداب مسایل سے نکالوں گا

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button