آپ کا سلاماردو غزلیاتشاز ملکشعر و شاعری

چہرے کو ترے تکتے ہوۓ

شاز ملک کی ایک اردو غزل

چہرے کو ترے تکتے ہوۓ جھوم رہی ہوں
مدت سے ترے چاک پہ میں گھوم رہی ہوں

تقدیر کہوں اس کو یا ہے چال تری یہ
میں پھول ہوں کانٹوں کو مگر چوم رہی ہوں

ملتا نہ اگر درد تو میں جانتی کیسے
چوکھٹ پہ تری زندگی معصوم رہی ہوں

کیسا ہے اثر پانی کی ہر بوند میں جب کے
برسات ترے بعد میں مشروم رہی ہوں

کیسے یہ کہوں تجھ سے مگر بات یہ سچ ہے
چاہت سے تری آج بھی محروم رہی ہوں

روشن رکھا ماں باپ کے اطوار نے پھر بھی
اس چاند کے آگے میں ہی معدوم رہی ہوں

ہوکر یہ فنا دیکھ لیا میں نے محبت
میں تیرے لیے لازم و ملزوم رہی ہوں

منسوب ہوں میں تجھ سے مگر یاد رہے یہ
اس گھر کی محبت میں ہی مقسوم رہی ہوں

کہتی ہیں مقدر کی لکیریں بھی یہی شاز
عورت ہوں محبت کی میں مخدوم رہی ہوں

شاز ملک

post bar salamurdu

شاز ملک

شاعرہ ، ناول نویس ،افسانہ نگار ، کالم نویس گیت کار ، ڈرامہ اسکرپٹ رائیٹر شاز ملک پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے تعلق رکھتی ہیں گزشتہ ستائیس سالوں سے فرانس میں مقیم ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button