- Advertisement -

جنگل میں واپسی

ستیا پال آنند کی ایک اردو نظم

جنگل میں واپسی

میں جنگل میں کبھی آباد تھا
پیڑوں کی آبادی میں ان کے سنگ اگتا تھا
جڑیں میری سلامت تھیں
مگر لاکھوں برس پہلے جڑیں ٹانگوں میں بدلیں، تو
نباتاتی حکومت نے
مجھے’ جنگل نکالا‘ دے کے یہ تلقین کی….جاؤ
تم انسانوں کی بستی میں رہو، پھولو، پھلو
جنگل تمہاری نسل کا مسکن نہیں، انساں!
میں شہروں میں چلا آیا تو تھا ، لیکن
میں جنگل کو بھی اپنی روح میں محفوظ رکھ کر ساتھ لایا تھا!

جڑیں جب کٹ گئی ہوں، کوئی
جنگل کو کہاں تک اپنے اندر روح میں رکھے؟
جڑوں سے ٹوٹ کر اپنی
میں اب تک تو رہا ہوں سرگراں باہر کی دنیا میں
مگر اب تھک گیا ہوں….
لوٹ جانا چاہتا ہوں اپنے جنگل میں!

ستیا پال آنند

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو نظم از ریحانہ علی