شاہد ذکی

شاہد ذکی جن کا تعلق سیالکوٹ پاکستان سے ہے جہاں بقول ابن انشا کھیل کے سامان کے علاوہ انسان بھی اچھے بنتے ہیں۔ شاہد ذکی نے لڑکپن سے شعر کہنا شروع کیا لیکن اس فن کو باقاعدہ جلاء کالج کے دور میں ملی اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کا اپنا رنگ اور اسلوب نکھرتا چلا گیا۔ سن دوہزار کے بعد سے پاکستان کے ادبی آسمان پر جو روشن ستارے طلوع ہوئے اور جن کی چمک دشتِ سُخن کو اُجالے رہی اُن میں ایک انتہائی اہم نام شاہد ذکی صاحب کا ہے۔ آپ کالج میں انگریزی پڑھاتے ہیں لہذا مغربی ادب اور شاعری کا درک رکھتے ہیں اور تقابلی مطالعے کے قائل ہیں۔ آپ کے اشعار میں ایک زندگی اور طراوت چلتی پھرتی محسوس ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور کامل ایمانداری اور بھرپور ریاضت کے ساتھ مصرعوں کو بُنتے ہیں۔ وہ زندگی کی کٹھی میٹھی حقیقتوں کو رنگا رنگ لُبادوں میں یوں پیش کرتے ہیں کہ پڑھنے والا رنگ اور کرافٹ میں کھو جاتا ہے۔

Back to top button