شاہد ذکی
شاہد ذکی جن کا تعلق سیالکوٹ پاکستان سے ہے جہاں بقول ابن انشا کھیل کے سامان کے علاوہ انسان بھی اچھے بنتے ہیں۔ شاہد ذکی نے لڑکپن سے شعر کہنا شروع کیا لیکن اس فن کو باقاعدہ جلاء کالج کے دور میں ملی اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کا اپنا رنگ اور اسلوب نکھرتا چلا گیا۔ سن دوہزار کے بعد سے پاکستان کے ادبی آسمان پر جو روشن ستارے طلوع ہوئے اور جن کی چمک دشتِ سُخن کو اُجالے رہی اُن میں ایک انتہائی اہم نام شاہد ذکی صاحب کا ہے۔ آپ کالج میں انگریزی پڑھاتے ہیں لہذا مغربی ادب اور شاعری کا درک رکھتے ہیں اور تقابلی مطالعے کے قائل ہیں۔ آپ کے اشعار میں ایک زندگی اور طراوت چلتی پھرتی محسوس ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور کامل ایمانداری اور بھرپور ریاضت کے ساتھ مصرعوں کو بُنتے ہیں۔ وہ زندگی کی کٹھی میٹھی حقیقتوں کو رنگا رنگ لُبادوں میں یوں پیش کرتے ہیں کہ پڑھنے والا رنگ اور کرافٹ میں کھو جاتا ہے۔
-

معاصر اُردو غزل میں شاہد ذکی کی تازہ کاری
از ڈاکٹر ساحل سلہری
-

جدھر بھی دیکھیے اک راستہ بنا ہوا ہے
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

کیا کہوں کیسے اضطرار میں ہوں
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

بس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

مرے خدا کسی صورت اسے ملا مجھ سے
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

بن مانگے مل رہا ہو تو خواہش فضول ہے
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

میں آئینہ ہوں وہ میرا خیال رکھتی تھی
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

امکان
شجاع شاذ پر شاہد ذکی کا ایک مضمون
-

آگ پانی میں لگا کر اسے بادل کر دوں
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

شاہد ذکی کی شاعری
شاہد ذکی پر اردو مضمون
-

رکھیے شغف روایتوں کے سلسلے سے بھی
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

اگر دونوں طرف سورج ترازو میں نہیں ہوتا
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

لہو میں ارض و سما بھر کے بھی نہیں بھرتا
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

میں اپنے حصے کی تنہائی محفل سے نکالوں گا
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

یوں تو نہیں کہ پہلے سہارے بنائے تھے
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

سیلاب سچ ہے اور در و دیوار خوب ہیں
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

بچھڑ گیا تھا کوئی خواب دل نشیں
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
-

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
شاہد ذکی کی ایک عمدہ غزل
-

رات سی نیند ہے مہتاب اتارا جائے
شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
- ۱
- ۲