اردو غزلیاتشاہد ذکیشعر و شاعری

کیا کہوں کیسے اضطرار میں ہوں

شاہد ذکی کی ایک اردو غزل

کیا کہوں کیسے اضطرار میں ہوں

میں دھواں ہو کے بھی حصار میں ہوں

اب مجھے بولنا نہیں پڑتا

اب میں ہر شخص کی پکار میں ہوں

جس کے آگے ہے آئینہ دیوار

میں بھی کرنوں کی اس قطار میں ہوں

آہٹوں کا اثر نہیں مجھ پر

جانے میں کس کے انتظار میں ہوں

پردہ پوشی تری مجھی سے ہے

تیرے آنچل کے تار تار میں ہوں

تنگ لگتی ہے اب وہ آنکھ مجھے

دفن جیسے کسی مزار میں ہوں

مجھے میں اک زلزلہ سا ہے شاہدؔ

میں کئی دن سے انتشار میں ہوں

شاہد ذکی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button