آپ کا سلاماردو غزلیاتشاز ملکشعر و شاعری

کہاں ہوتے ہوۓ احساس

شاز ملک کی ایک اردو غزل

کہاں ہوتے ہوۓ احساس کی تکمیل دیکھوں ہوں
فقط میں درد کی تفسیر اور تشکیل دیکھوں ہوں

بڑی تقدیس بخشی رب نے تو حوا کی بیٹی کو
مگر دیکھوں جہاں عورت کی ہی تذلیل دیکھوں ہوں

کہاں انصاف ملتا ہے کہاں انصاف ہو گا جب
یہاں قانون بھی ہوتے ہوئے تبدیل دیکھوں ہوں

خدا نے نرم رَو عورت بنائی ہے مگر سچ میں
ہمیشہ مرد کے دل میں انا کی کیل دیکھوں ہوں

وجودِ زن سے ہے روشن حسیں پر کیف یہ دنیا
مگر میں روح پر اس کی ہزاروں نیل دیکھوں ہوں

کہا ہے یہ کسی نے زر زمیں اور زن تباہی ہے
تبھی ہر دور میں ہابیل اور قابیل دیکھوں ہوں

وفا کی بات چل نکلے تو عورت ہی نبھاتی ہے
مگر میں مرد کے دل میں جفا تحلیل دیکھوں ہوں

کہیں جب نام پر غیرت کے عورت مار دی جائے
زباں پر سب کی بس افسوس اک تاویل دیکھوں ہوں

کوئی تو شاز دل میں دکھ چھپا ہے اس لیے ہی تو
تری آنکھوں میں بہتی درد کی اک جھیل دیکھوں ہوں

شاز ملک
کتاب دل کا نیلا سمندر

post bar salamurdu

شاز ملک

شاعرہ ، ناول نویس ،افسانہ نگار ، کالم نویس گیت کار ، ڈرامہ اسکرپٹ رائیٹر شاز ملک پاکستان کے شہر سیالکوٹ سے تعلق رکھتی ہیں گزشتہ ستائیس سالوں سے فرانس میں مقیم ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button