کہاں ہوتے ہوۓ احساس کی تکمیل دیکھوں ہوں
فقط میں درد کی تفسیر اور تشکیل دیکھوں ہوں
بڑی تقدیس بخشی رب نے تو حوا کی بیٹی کو
مگر دیکھوں جہاں عورت کی ہی تذلیل دیکھوں ہوں
کہاں انصاف ملتا ہے کہاں انصاف ہو گا جب
یہاں قانون بھی ہوتے ہوئے تبدیل دیکھوں ہوں
خدا نے نرم رَو عورت بنائی ہے مگر سچ میں
ہمیشہ مرد کے دل میں انا کی کیل دیکھوں ہوں
وجودِ زن سے ہے روشن حسیں پر کیف یہ دنیا
مگر میں روح پر اس کی ہزاروں نیل دیکھوں ہوں
کہا ہے یہ کسی نے زر زمیں اور زن تباہی ہے
تبھی ہر دور میں ہابیل اور قابیل دیکھوں ہوں
وفا کی بات چل نکلے تو عورت ہی نبھاتی ہے
مگر میں مرد کے دل میں جفا تحلیل دیکھوں ہوں
کہیں جب نام پر غیرت کے عورت مار دی جائے
زباں پر سب کی بس افسوس اک تاویل دیکھوں ہوں
کوئی تو شاز دل میں دکھ چھپا ہے اس لیے ہی تو
تری آنکھوں میں بہتی درد کی اک جھیل دیکھوں ہوں
شاز ملک
کتاب دل کا نیلا سمندر








