اردو غزلیاتشاہد ذکیشعر و شاعری

بس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے

شاہد ذکی کی ایک اردو غزل

بس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے

جو کچھ بھی ہے زمینی زمانی فریب ہے

رنگ اپنے اپنے وقت پہ کھلتے ہیں آنکھ پر

اول فریب ہے کوئی ثانی فریب ہے

سوداگران شعلگیٔ شر کے دوش پر

مشکیز گاں سے جھانکتا پانی فریب ہے

اس گھومتی زمیں پہ دوبارہ ملیں گے ہم

ہجرت فرار نقل مکانی فریب ہے

دریا کی اصل تیرتی لاشوں سے پوچھیے

ٹھہراؤ ایک چال روانی فریب ہے

اب شام ہو گئی ہے تو سورج کو روئیے

ہم نے کہا نہ تھا کہ جوانی فریب ہے

بار دگر سمے سے کسی کا گزر نہیں

آئندگاں کے حق میں نشانی فریب ہے

علم اک حجاب اور حواس آئنے کا زنگ

نسیان حق ہے یاد دہانی فریب ہے

تجسیم کر کہ خواب کی دنیا ہے جاوداں

تسلیم کر کہ عالم فانی فریب ہے

شاہدؔ دروغ گوئی گلزار پر نہ جا

تتلی سے پوچھ رنگ فشانی فریب ہے

شاہد ذکی

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button