- Advertisement -

مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں

تہذیب حافی کی ایک اردو غزل

مہینوں بعد دفتر آ رہے ہیں
ہم اک صدمے سے باہر آ رہے ہیں

تیری باہوں سے دل اکتا گیا ہے
اب اس جھولے میں چکر آ رہے ہیں

سمندر کر چکا تسلیم ہم کو
خزانے خود ہی اوپر آ رہے ہیں

کہاں سویا ہے چوکیدار میرا
یہ کیسے لوگ اندر آ رہے ہیں

یہی اک دن بچا تھا دیکھنے کو
اُسے بس میں بٹھا کر آ رہے ہیں

تہذیب حافی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
کرنل محمد خان کی ایک اردو نظم