اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

ہم پوچھ سکے نہ حال تیرا

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ہم پوچھ سکے نہ حال تیرا
لے آیا کہاں خیال تیرا

جیسے کسی غیر کا تصور
یوں آتا ہے اب خیال تیرا

ہم دیکھتے رہ گئے جہاں کو
پوچھا تھا کسی نے حال تیرا

ٹوٹے ہیں تعلقات کیونکر
میرا تھا نہ یہ خیال تیرا

کس رنگ میں وہ ملے تھے باقیؔ
دل ہی میں رہا سوال تیرا

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button