ہو کے رنجور بہت دور تلک
میں چلی دور بہت دور تلک
تجھ کو سوچوں تو نظر آتا ہے
نور ہی نور بہت دور۔۔۔۔تلک
ہر قدم پر تمہارے ساتھ گئی
آنکھ مخمور بہت دور تلک
راہِ الفت میں ہمیں چلنا پڑا
درد سے چور بہت دور تلک
لوگ تشکیک میں نہ پڑ جائیں
مجھ کو مت گھور بہت دور تلک
چلتی گاڑی کے پیچھے بھاگا تھا
ایک مجبور بہت دور ۔۔۔۔۔تلک
اس کی آنکھوں کے جام نے عنبر
رکھا مسرور بہت دور تلک
فرحانہ عنبر








