اردو شاعریاردو غزلیاتناہید ورک

پھر تیرے خواب ٹانک دیے ہیں پلک پلک

ناہید ورک کی اردو غزل

پھر تیرے خواب ٹانک دیے ہیں پلک پلک
مہکے گلاب ٹانک دیے ہیں پلک پلک
پھر دھڑکنوں میں شور اُٹھا تیرے نام کا
پھر اضطراب ٹانک دیے ہیں پلک پلک
اے زندگی بتا تو مجھے تُو نے کس لیے؟
اتنے چناب ٹانک دیے ہیں پلک پلک
میں نے تو بات کی تھی ستاروں کی، چاند کی
اُس نے سراب ٹانک دیے ہیں پلک پلک
کیسے کہوں کہ تیری رفاقت نے جانِ جاں
کتنے عذاب ٹانک دیے ہیں پلک پلک
اُس نے کتابِ زیست سے مجھ کو نکال کر
فُرقت کے باب ٹانک دیے ہیں پلک پلک

ناہید ورک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button