- Advertisement -

کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے

جواد شیخ کی ایک اردو غزل

کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے
جن کے پیش ِنظر عشق ہو ، سر نہیں دیکھتے

جیسے میں دیکھتا ہوں جو مجھ کو دکھائی نہ دے
آپ کیوں اپنے من چاہے منظر نہیں دیکھتے

اور تو ایسی کوئی شکایت نہیں ہے مگر
آپ میری جگہ خود کو رکھ کر نہیں دیکھتے

اور یہ اک طرح کا ہم ایسوں پہ احسان ہے
دیکھنے والی شے لوگ اکثر نہیں دیکھتے

میں نہیں دیکھتا کیونکہ میری الگ بات ہے
لوگ کس منہ سے اُس کو مکرّر نہیں دیکھتے

دیکھنا ، دیکھ سکنے کے باعث مرا فرض ہے
اور پھر اِس لیے بھی کہ دیگر نہیں دیکھتے

فرض تھوڑی ہے بندے کو ہر بات کا علم ہو
کیا بتائیں کہ ہم کیوں میسّر نہیں دیکھتے

ہم کو جواد سمجھانے والا بھی کوئی نہیں
کچھ بھی کرتے ہوئے اپنی چادر نہیں دیکھتے

جواد شیخ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
جواد شیخ کی ایک اردو غزل