بریدہ سر تھے مرے خواب جو ٹھکانے لگے
ابھی سے لوگ بہت انگلیاں اٹھانے لگے
مجھے بھلایا ہے تو نے تو دفعتاً لیکن
تجھے بھلانے میں مجھ کو کئی زمانے لگے
یہ سینہ زوری نہیں ہے تو اور کیا ہے میاں
چرا کے شعر مرے لوگ گنگنانے لگے
وہ اپنے آپ میں بد مست و بے خبر ٹھہرا
یہاں یہ حال کہ اب مجھ کو ہول آنے لگے
ستارے آنکھ میں وہ یوں چھپائے رکھتا ہے
ذرا سی بات ہوئی اور جھلملانے لگے
بحال دل سے مرا رابطہ ہؤا ہے پھر
اسی بہانے اسی کوچہ آنے جانے لگے
جو مسکرا کے مری سمت تو نے دیکھا ہے
بتا کہ اس میں ترے کون سے خزانے لگے
ابھی تو پہلے ہی زینے پہ پاؤں دھرنا تھا
ابھی سے لوگ مجھے عشق سے ڈرانے لگے
مرا تھا رات کوئی رند بے تحاشہ سے
رشیدؔ دیپ یہاں آج سب جلانے لگے
رشید حسرتؔ
آج مورخہ ۱۱ اکتوبر ۲۰۱۴ رات ۱۱ بج کر ۳۵ منٹ پر مکمل ہوئی۔








