آپ کا سلاماردو غزلیاترشید حسرتشعر و شاعری

بریدہ سر تھے مرے خواب

ایک اردو غزل از رشید حسرت

بریدہ سر تھے مرے خواب جو ٹھکانے لگے
ابھی سے لوگ بہت انگلیاں اٹھانے لگے

مجھے بھلایا ہے تو نے تو دفعتاً لیکن
تجھے بھلانے میں مجھ کو کئی زمانے لگے

یہ سینہ زوری نہیں ہے تو اور کیا ہے میاں
چرا کے شعر مرے لوگ گنگنانے لگے

وہ اپنے آپ میں بد مست و بے خبر ٹھہرا
یہاں یہ حال کہ اب مجھ کو ہول آنے لگے

ستارے آنکھ میں وہ یوں چھپائے رکھتا ہے
ذرا سی بات ہوئی اور جھلملانے لگے

بحال دل سے مرا رابطہ ہؤا ہے پھر
اسی بہانے اسی کوچہ آنے جانے لگے

جو مسکرا کے مری سمت تو نے دیکھا ہے
بتا کہ اس میں ترے کون سے خزانے لگے

ابھی تو پہلے ہی زینے پہ پاؤں دھرنا تھا
ابھی سے لوگ مجھے عشق سے ڈرانے لگے

مرا تھا رات کوئی رند بے تحاشہ سے
رشیدؔ دیپ یہاں آج سب جلانے لگے

رشید حسرتؔ

آج مورخہ ۱۱ اکتوبر ۲۰۱۴ رات ۱۱ بج کر ۳۵ منٹ پر مکمل ہوئی۔

post bar salamurdu

رشید حسرت

رشید حسرت نے 1981 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا۔ ان کی شاعری اخبارات، ادبی رسائل اور کل پاکستان و کل پاک و ہند مشاعروں میں شائع اور پیش ہوتی رہی۔ پی ٹی وی کوئٹہ کے مشاعروں میں ان کی شرکت ان کی تخلیقی شناخت کا آغاز تھی، مگر بعد میں انہوں نے اجارہ داریوں اور غیر منصفانہ رویّوں سے تنگ آ کر اس نظام سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے پانچ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ سب کے سب اپنی ذاتی جیب سے، جو ان کے خلوص اور ادب سے والہانہ لگاؤ کی علامت ہیں۔ رشید حسرت اس طبقے کے نمائندہ شاعر ہیں جنہوں نے ادب کو کاروبار نہیں بلکہ عبادت سمجھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button