زمانہ بدل رہا ہے، اور ہر نیا دن انسان کو ایک ایسی تیز رفتار دنیا میں دھکیل رہا ہے جہاں دوڑ جیتنے کے لیے سب کچھ قربان کر دینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ترقی کے نعروں اور سہولتوں کے انبار نے انسان کو سہولت تو دی ہے مگر دل کی دنیا کو اجاڑ دیا ہے۔ ہم فاصلوں کو کم کرنے کے دعوے کرتے ہیں مگر رشتوں کے درمیان ایسی دیواریں کھڑی کر چکے ہیں جنہیں توڑنا آسان نہیں۔ یہی سب سے بڑا المیہ ہے کہ جتنی تیزی سے سائنس نے فاصلے گھٹائے ہیں، اتنی ہی تیزی سے دلوں کے فاصلے بڑھ گئے ہیں۔
گھر کبھی سکون اور محبت کی علامت ہوتے تھے۔ بچے اسکول سے واپس آکر والدین کے ساتھ بیٹھتے، ان کی باتیں سنتے اور ان کے تجربے سے سبق حاصل کرتے۔ آج منظر مختلف ہے۔ بچے اپنے کمرے میں بند اسکرینوں کے اسیر ہیں۔ وہ دل کی باتیں اجنبیوں کو بتاتے ہیں، مگر اپنے والدین کے سامنے خاموش ہو جاتے ہیں۔ ماں باپ کی موجودگی کے باوجود ایک عجیب سا خلا محسوس ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے گھر کی دیواریں تو باقی ہیں مگر اس کے اندر کی روح کہیں کھو گئی ہے۔
نوجوانی کو ہمیشہ خاندان کا سہارا سمجھا گیا ہے۔ مگر آج کا نوجوان اپنے ہی دائرے میں محصور ہے۔ والدین کی خیریت پوچھنے کا وقت نہیں، رشتوں کی نزاکت سمجھنے کا حوصلہ نہیں۔ یہ لاپرواہی وقت کے ساتھ ایک گہری خلیج میں بدل جاتی ہے۔ پھر نصیحتیں بھی بوجھ لگتی ہیں اور محبت کے رشتے بھی غیر اہم۔ یہی وہ لمحہ ہے جب خاندان کے اندر سے اعتماد ٹوٹتا ہے اور تعلقات رسمی رہ جاتے ہیں۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ منظر وہ ہے جو بوڑھے والدین کے حصے میں آتا ہے۔ وہ والدین جنہوں نے اپنی خوشیاں اولاد کے مستقبل پر قربان کر دیں، بڑھاپے میں تنہائی اور بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ کرسی پر بیٹھے دن گنتے رہتے ہیں کہ کب کوئی بیٹا یا بیٹی ان کے پاس آکر بات کرے۔ ہمارا معاشرہ ان کے تجربے کو بوجھ سمجھ کر کنارے لگا دیتا ہے حالانکہ یہی تجربہ آئندہ نسلوں کی رہنمائی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ جو قوم اپنے بزرگوں کو فراموش کر دیتی ہے وہ تاریخ میں اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے۔
اس سب کے ساتھ عورت کا معاملہ بھی کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔ ہم تعلیم اور شعور کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں مگر عورت کو آج بھی کمزور اور بے وقعت سمجھتے ہیں۔ کہیں اسے گھر کی چار دیواری میں قید کر دیا جاتا ہے تو کہیں آزادی کے نام پر استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت کو مقام دینا صرف اس کا حق ہی نہیں بلکہ خاندان کے استحکام کی ضمانت بھی ہے۔ عورت اگر عزت اور اعتماد پائے تو وہی رشتوں کو جوڑنے والی سب سے مضبوط کڑی بن جاتی ہے۔ وہ ماں کی صورت میں اولاد کو تربیت دیتی ہے اور بیٹی کے روپ میں گھر کی رونق بڑھاتی ہے۔ مگر جب عورت کو عزت سے محروم کیا جاتا ہے تو خاندان بکھرنے لگتے ہیں اور معاشرہ اپنی بنیادوں سے خالی ہو جاتا ہے۔
ہمیں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ رشتوں کے بکھرنے میں صرف سوشل میڈیا یا ٹیکنالوجی قصوروار نہیں۔ معاشی دباؤ بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے انسان کو اتنا تھکا دیا ہے کہ وہ اپنے ہی پیاروں کے لیے وقت نہیں نکال پاتا۔ باپ روزی کے چکر میں الجھا ہے، ماں کاموں میں تھکی ہوئی ہے، اور بچے اپنی مصنوعی دنیا میں کھوئے ہوئے ہیں۔ ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کے باوجود دل ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔ یہ معاشی دباؤ خاندان کے رشتوں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔
ٹیکنالوجی بذاتِ خود کوئی دشمن نہیں۔ اس نے فاصلے کم کیے، علم عام کیا اور سہولتیں فراہم کیں۔ مسئلہ صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اسے زندگی پر حاوی کر دیتے ہیں۔ اگر ہم ٹیکنالوجی کو ضرورت کے دائرے میں رکھیں تو یہ رشتوں کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ اصل ضرورت توازن قائم کرنے کی ہے۔ والدین اور اولاد اگر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں تو اسکرین بھی رکاوٹ نہیں بلکہ ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن جب مشین انسان پر غالب آ جائے تو انسان مشین کے قابو میں آ جاتا ہے۔
یہ سب تصویر کا منفی رخ ہے۔ لیکن اس کا حل بھی موجود ہے۔ اگر خاندان میں یہ طے کر لیا جائے کہ ہفتے میں ایک دن سب مل کر بیٹھیں گے، ایک ساتھ کھانا کھائیں گے اور بات چیت کریں گے تو محبت کا رشتہ پھر سے جڑ سکتا ہے۔ بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت ڈال لی جائے تو ان کے تجربے کی روشنی نئی نسل کے لیے راہنما بن سکتی ہے۔ بچوں کو تعلیم کے ساتھ رشتوں کی اہمیت بھی سکھائی جائے تو وہ صرف کامیاب نہیں بلکہ بااخلاق انسان بھی بنیں گے۔ عورت کو اس کا جائز مقام دیا جائے تو خاندان بکھرنے کے بجائے مزید مضبوط ہوں گے۔ اور اگر ہم نے اپنی ترجیحات میں صرف معاشی دوڑ کے بجائے رشتوں کو بھی شامل کر لیا تو زندگی آسان ہو جائے گی۔
رشتے دو ستونوں پر قائم رہتے ہیں: اعتماد اور احترام۔ جب یہ دونوں کمزور ہو جائیں تو نہ صرف خاندان بلکہ پورا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کامیابی بھی بے معنی ہو جاتی ہے اگر گھر کے اندر محبت اور سکون نہ ہو۔
یہ وقت ہے کہ ہم سوچیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ اگر ہم نے اس زوال کو نہ روکا تو آنے والی نسلیں محبت، عزت اور رشتے جیسی قدریں صرف کتابوں میں پڑھیں گی۔ وہ عملی زندگی میں ان نعمتوں سے محروم رہیں گی۔ اور شاید پھر ہمیں یہ احساس بھی نہ ہو کہ ہم نے کیا کھویا اور کس قیمت پر پایا۔ سوال یہ ہے: کیا ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں رشتوں کو صرف تاریخ کے اوراق میں تلاش کریں؟ یا ہم ابھی سے عزم کر کے ان رشتوں کو بچانے کی کوشش کریں گے؟ فیصلہ آج کے انسان کے ہاتھ میں ہے۔
یوسف صدیقی








