آپ کا سلاماردو غزلیاتسردار حماد منیرشعر و شاعری
حریص اس قدر ہے انساں
سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل
حریص اس قدر ہے انساں اسے یہ بات سمجھاؤ
مقدّر میں جو لکّھا ہی نہیں اس پر نہ للچاؤ
اگر حق بات کرنی ہے تو بے خوف و خطر کر دو
کسی فرعون کے لشکر سے موسیٰ تم نہ گھبراؤ
مجھے اچھی نہیں لگتی ادھوری بات جانِ جا
مجھے سب کچھ ہی بتلاؤ یا پھر کچھ بھی نہ بتلاؤ
تمہیں بے پردہ دیکھے کو ترس جاتی ہیں یہ نظریں
ذرا سا رخ سے آنچل کو ہٹاؤ یوں نہ شرماؤ
کوئی الزام دو ، تہمت یا خنجر دل میں دے مارو
چلو جاتے ہوئے اپنی کوئی یادیں تو دے جاؤ
یہ بچے عصرِ نو کا قیمتی سرمایہ ہیں حامیؔ
انہیں عشق و محبت میں زرا سا بھی نہ الجھاؤ
کسی سے عشق کرنا جرم ہے حامیؔ تو کر ڈالو
بلے مجرم سہی تم فخر سے مجرم تو کہلاؤ
سردار حمادؔ منیر








