آپ کا سلاماردو غزلیاتجیوتی آزاد کھتریشعر و شاعری

جس طرف دیکھیے طوفان نظر آنے لگے

جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل

جس طرف دیکھیے طوفان نظر آنے لگے

شہر کے شہر ہی ویران نظر آنے لگے

جب سے شیشوں نے کیا ان کے حوالے خود کو

تب سے پتھر بھی پریشان نظر آنے لگے

مختصر ہم نے کیا خود کو ذرا سا خود میں

کس قدر راستے آسان نظر آنے لگے

مفلسی میں ہوئی پہچان مجھے اپنوں کی

تھا گماں جن پہ وہ انجان نظر آنے لگے

اک قدم ہی تو بڑھایا ہے ہماری جانب

آپ کو فائدے نقصان نظر آنے لگے

دیکھ کر میری طلب میرا جنون منزل

راستے کیسے پریشان نظر آنے لگے

جیوتی آزاد کھتری

जिस तरफ़ देखिए तूफ़ान नज़र आने लगे

शहर के शहर ही वीरान नज़र आने लगे

जब से शीशों ने किया उन के हवाले ख़ुद को

तब से पत्थर भी परेशान नज़र आने लगे

मुख़्तसर हम ने किया ख़ुद को ज़रा सा ख़ुद में

किस क़दर रास्ते आसान नज़र आने लगे

मुफ़्लिसी में हुई पहचान मुझे अपनों की

था गुमाँ जिन पे वो अंजान नज़र आने लगे

इक क़दम ही तो बढ़ाया है हमारी जानिब

आप को फ़ाएदे नुक़सान नज़र आने लगे

देख कर मेरी तलब मेरा जुनून-ए-मंज़िल

रास्ते कैसे परेशान नज़र आने लगे

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button