- Advertisement -

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے

اظہر فراغ کی ایک اردو غزل

رات کی آغوش سے مانوس اتنے ہو گئے

روشنی میں آئے تو ہم لوگ اندھے ہو گئے

آنگنوں میں دفن ہو کر رہ گئی ہیں خواہشیں

ہاتھ پیلے ہوتے ہوتے رنگ پیلے ہو گئے

بھیڑ میں گم ہو گئے ہم اپنی انگلی چھوڑ کر

منفرد ہونے کی دھن میں اوروں جیسے ہو گئے

زندہ رہنے کے لئے کچھ بے حسی درکار تھی

سوچتے رہنے سے بھی کچھ زخم گہرے ہو گئے

اس لئے محتاط ہوں اپنی نموداری سے میں

پھل تو پھل مجھ پیڑ کے پتے بھی میٹھے ہو گئے

اظہر فراغ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
خورشید رضوی کی ایک اردو غزل