آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

ایسی حالت جو ترے شہر نے کر دی میری
اس سے بہتر تھی کہیں دشت نوردی میری

پھول ہوں برگِ خزاں دیدہ کی تمثیل نہیں
آپ سرسوں سے ملا سکتے ہیں زردی میری

کوئی خورشید ہے اس شخص کی پیشانی میں
ایک بوسے سے اتر جاتی ہے سردی میری

تنگ دامن ہوں کہاں عرضِ تمنا رکھوں
تُو نے جھولی تو شکایات سے بھر دی میری

پھوٹ پڑتا ہے کسی کوہ سے جیسے چشمہ
کوئی الجھن بھی نکل آئی ہے دردی میری

کس کو ہے دشت نوردی کا سلیقہ ساجد
کون پہنے گا اتاری ہوئی وردی میری

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button