انسانیت کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے
ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی
گذشتہ دنوں ہمارے معاشرے نے ایک بار پھر اپنی تلخ حقیقت دکھائی۔ لاہور کے قریب رائیونڈ میں صرف تیس روپے کے معمولی تنازع پر دو بھائی، واجد اور راشد، جان کی بازی ہار گئے۔ وہ لاہور سے آئے تھے، رائیونڈ میں کیلے خریدنے کے لیے رکے مگر چند سکوں کی خاطر جھگڑا ہاتھا پائی میں بدل گیا، اور واجد موقع پر جاں بحق ہوا، جبکہ راشد آج زخمی حالت میں دم توڑ گیا۔
اسی طرح گجرات کے گاؤں مہسم میں کرکٹ کے میچ کے دوران اوور نہ دینے پر دو نوجوان، جو سگے بھائی تھے، قتل ہو گئے۔ معمولی سی تلخ کلامی خون میں بدل گئی اور دو خاندان اپنی روشنی سے محروم ہو گئے۔
یہ دونوں واقعات چھوٹے تنازعات سے شروع ہوئے، مگر انجام نے دل دہلا دینے والی حقیقت دکھائی: انسانی جان کی قدر ہمارے معاشرے میں اتنی کم ہو گئی ہے کہ چند سکوں یا کھیل کے اوور کے لیے خون بہایا جا سکتا ہے۔ یہ صرف خبریں نہیں، یہ انسانی زندگی کا جنازہ ہے جو ہمارے سامنے گزرا۔
معاشرہ بدل گیا ہے۔ وہ معاشرہ جہاں کبھی محلے کے بزرگ مسکراہٹ سے جھگڑوں کو ختم کر دیتے تھے، اب وہاں معمولی اختلاف ہاتھوں، خنجر اور تشدد میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ہم غصے کو طاقت اور صبر کو کمزوری سمجھنے لگے ہیں۔ والدین بچوں کو برداشت اور محبت کے بجائے مقابلہ بازی اور انا کا سبق دیتے ہیں۔ اسکول اور تعلیم صرف کتابی علم تک محدود ہیں، مذہبی رہنماؤں کے خطبات عملی زندگی سے دور۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چھوٹے جھگڑے جان و مال کے سوال بن جاتے ہیں۔
یہ صرف واجد اور راشد یا گجرات کے نوجوان کا قتل نہیں ہے۔ یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا المیہ ہے۔ یہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ ہم آنے والی نسل کو کیا سکھانا چاہتے ہیں: ایک ایسا معاشرہ جہاں زندگی چند سکوں یا معمولی اختلاف میں تولی جائے، یا ایسا جہاں ہر انسان کی جان اور عزت کی قدر ہو۔
ہم نے دیکھا ہے کہ یہ وہی قوم ہے جو زلزلے، سیلاب اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے لیے دروازے کھول دیتی تھی۔ تو پھر آج ہم اتنے سنگدل کیسے ہو گئے کہ ایک انسان کی جان بھی ہمیں روکنے کے لیے کافی نہیں رہی؟
اگر ہم نے صبر اور برداشت کو واپس اپنی زندگیوں میں جگہ نہ دی، تو کل یہ المیہ کسی اور کے دروازے پر دستک دے گا۔ آج واجد اور راشد کی جانیں گئیں، اور گجرات کے دو بھائی موت کے شکنجے میں جا چکے۔ کل یہ کسی اور کے بیٹے یا بھائی ہو سکتے ہیں۔ ہم سب کو سوچنا ہوگا — کہیں بہت دیر نہ ہو جائے
یوسف صدیقی








