- Advertisement -

اُس نگر گئے تم بھی

ایک اردو غزل از ناصر ملک

اُس نگر گئے تم بھی
یار مر گئے تم بھی

ہجر کے تماشے میں
بھول کر گئے تم بھی

چارسُو اداسی ہے
اور گھر گئے تم بھی

بے ثمر زمانے سے
بے ثمر گئے تم بھی

فاصلے ڈراتے ہیں
اور ڈر گئے تم بھی

اِک طلسمِ شب جاگا
اِک گزر گئے تم بھی

بخت کی سواری سے
لو اُتر گئے تم بھی

 

ناصر ملک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از ناصر ملک