اردو شاعریاردو غزلیاتڈاکٹر کبیر اطہر

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ

ڈاکٹر کبیر اطہر کی ایک اردو غزل

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ

مجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھ

نچا رہا ہے مجھے انگلیوں پہ عشق ترا

تمام عمر اسی رقص بے مثال میں رکھ

دکھی ہو دل تو اترتی ہے شاعری مجھ پر

تجھے غزل کی قسم ہے مجھے ملال میں رکھ

تو چاہتا ہے اگر کار۔آفتاب کروں

مرا عروج مری ساعت زوال میں رکھ

ترے بغیر گزاری ہے زندگی میں نے

تو اس ستم کی تلافی بھی ماہ و سال میں رکھ

تو دل ہے اور دھڑکنا تری عبادت ہے

سو خود کو جسم سے باہر بھی تو دھمال میں رکھ

شکم سے ہو کے گزرتے ہیں قول و فعل مرے

مجھ ایسے شخص کو نان و نمک کے جال میں رکھ

مرے بدن کو بھلے اس سے آگ لگ جائے

چراغ حرف مگر میرے بال بال میں رکھ

میں اس عذاب کے نشے میں مبتلا ہوں کبیرؔ

پرائی آگ اٹھا کر مری سفال میں رکھ

ڈاکٹر کبیر اطہر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button