دنیا کے شور شرابے میں جب الفاظ کی گولیاں بارود سے زیادہ خطرناک ہو جائیں تو عدالتوں کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ برطانیہ کی ایک عدالت نے حال ہی میں ایک ایسا فیصلہ سنایا جو نہ صرف ایک مقدمے کا اختتام ہے بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں پر بھی گہرا اثر ڈالتا ہے۔ یہ فیصلہ اس مقدمے میں سامنے آیا جو سابق پاکستانی انٹیلی جنس افسر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے خود ساختہ تجزیہ کار اور یوٹیوبر عادل راجہ کے خلاف دائر کیا تھا۔
یہ مقدمہ محض ایک شخص کی شہرت کا نہیں بلکہ اس بنیادی اصول کا امتحان تھا کہ کیا آزادیِ اظہار کے نام پر الزام تراشی بھی جائز ہے؟ عادل راجہ نے مختلف ویڈیوز، بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس میں بار بار ایسے دعوے کیے جن میں انہوں نے ریاستی اداروں کے افسران کو ارشد شریف کے قتل جیسے سنگین واقعے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ عدالت نے تفصیلی سماعت کے بعد قرار دیا کہ یہ تمام بیانات بے بنیاد تھے، ان کی بنیاد قیاس آرائی تھی، ثبوت نہیں۔
برطانوی عدالت نے نو ایسے بیانات کی نشاندہی کی جو سنگین حد تک ہتکِ عزت پر مبنی تھے۔ ان میں ایک نمایاں الزام یہ تھا کہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے کسی ریاستی ادارے کے کہنے پر صحافی ارشد شریف کے قتل میں کوئی کردار ادا کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پاکستان کی حکومت کی اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں ایسی کوئی بات موجود نہیں۔ اس رپورٹ میں صاف لکھا ہے کہ ارشد شریف کا قتل کینیا میں ہوا اور تفتیش ابھی مکمل نہیں۔ اس کے باوجود عادل راجہ اپنے پلیٹ فارمز پر یہ تاثر دیتے رہے کہ وہ کسی ناقابلِ تردید حقیقت سے پردہ اٹھا رہے ہیں۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عادل راجہ نے جو ذرائع پیش کیے وہ ناقابلِ تصدیق اور غیر معتبر تھے۔ یہ تمام معلومات سوشل میڈیا کے غیر مصدقہ حلقوں یا ذاتی قیاس پر مبنی تھیں۔ برطانوی جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اظہارِ رائے کا حق کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ الزام کو سچ بنا کر پیش کرے۔ اگر کوئی شخص کسی پر جرم کا الزام لگاتا ہے تو اسے لازم ہے کہ وہ اسے ثبوت سے ثابت کرے۔
فیصلے میں عدالت نے عادل راجہ کو غلط قرار دیتے ہوئے ان پر بھاری اخراجات عائد کیے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً تیرہ کروڑ روپے کے برابر ہیں۔ عدالت نے انہیں حکم دیا کہ وہ اپنے تمام آن لائن پلیٹ فارمز پر معافی نامہ شائع کریں اور آئندہ کسی قسم کے ہتک آمیز بیانات سے گریز کریں۔ سب سے بڑا نقصان مالی نہیں بلکہ اخلاقی ہے، کیونکہ عدالت نے ان کے بیانیے کو محض غیر ذمہ دارانہ افواہ قرار دیا۔
عدالت کے فیصلے میں مزید واضح کیا گیا کہ عادل راجہ نے ۱۴ سے ۲۹ جون ۲۰۲۲ کے دوران اپنے ٹویٹر، فیس بک اور یوٹیوب اکاؤنٹس پر ایسے بیانات دیے جو راشد نصیر کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر لگائے گئے تھے۔ عدالت نے کہا کہ عادل راجہ اپنے الزامات عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام رہے اور ان کے بیانات نے راشد نصیر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ عادل راجہ نے اپنے دفاع میں کہا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنے خاندان کے ہمراہ پناہ حاصل کی ہے اور وہ آئی ایس آئی کے ناقدین میں سے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کے ذرائع آئی ایس آئی اور فوج کے اندر قابلِ اعتماد ہیں اور وہ بیرونِ ملک دہشت گردی اور پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ دعوے ثبوت کے بغیر تھے۔
جج نے حکم دیا کہ عادل راجہ اپنے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کیس کا خلاصہ شائع کریں اور فالورز کو یہ بتائیں کہ تمام الزامات جھوٹے اور ہتک آمیز تھے۔ عدالت نے مزید کہا کہ وقت، طریقہ کار، الفاظ اور جگہ کا تعین فریقین کے اتفاق سے ہونا چاہیے، بصورت دیگر عدالت فیصلہ کرے گی۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ سوال یہ نہیں کہ آئی ایس آئی الیکشن میں
ملوث ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ آیا مدعی راشد نصیر نے اپنے عہدے کے ذریعے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی یا نہیں۔ عادل راجہ نے صحافی ارشد شریف کے قتل کا الزام آئی ایس آئی پر لگایا لیکن کسی بھی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ آئی ایس آئی ملوث تھی۔
عدالت نے عادل راجہ کے گواہان کے بیانات کا ذکر بھی کیا۔ شاہین صہبائی نے الیکشن میں مداخلت کے خطرے کا اظہار کیا، لیکن راشد نصیر کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ مرزا شہزاد اکبر نے کہا کہ بیشتر تحریریں راشد نصیر کے دفتر سے میڈیا میں لگوائی گئی، لیکن عدالت نے کہا کہ یہ ثابت نہیں ہوا کہ مدعی اس دعوے سے واقف تھے۔
یہ فیصلہ صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ ایک آئینہ ہے۔ اس نے سوشل میڈیا کے اس المیے کو واضح کر دیا کہ اب ہر شخص ذرائع کے نام پر جھوٹ کو سچ کی شکل دے سکتا ہے اور ہر جھوٹ چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ سچ کی تصدیق کوئی نہیں کرتا مگر الزام ہر زبان پر چڑھ جاتا ہے۔ عادل راجہ کے ٹویٹس اس کی واضح مثال ہیں۔
یہ خاموشی دراصل وہ لمحہ تھی جب عدالت اور سوشل میڈیا کی دنیا میں فرق واضح ہو گیا۔ عدالت دلیل مانگتی ہے، سوشل میڈیا تاثر پر زندہ ہے۔ عدالت شہادت چاہتی ہے، سوشل میڈیا سنسنی پر تالیاں بجاتا ہے۔ عدالت انصاف دیتی ہے، سوشل میڈیا فیصلہ سناتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو اس فیصلے نے پوری دنیا کے سامنے واضح کر دیا۔
یہ معاملہ پاکستان کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ ہمارے ہاں آزادیِ اظہار کا نعرہ اکثر بدزبان آزادی میں بدل جاتا ہے۔ ہم نے الزام کو اظہار اور تضحیک کو تجزیہ سمجھ لیا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو بولنے کا حق دیا مگر بولنے سے پہلے سوچنے کی ذمہ داری ہم بھول گئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر روز کسی کی عزت، کسی کی ساکھ اور کسی کے کردار کو چند لمحوں میں تباہ کر دیا جاتا ہے، اور جب جھوٹ بے نقاب ہوتا ہے تو کوئی معافی مانگنے کو تیار نہیں ہوتا۔
یہ فیصلہ آزادیِ اظہار کے تصور کو بھی ایک نیا زاویہ دیتا ہے۔ آزادیِ اظہار اس وقت باوقار رہتی ہے جب اس کے پیچھے دیانت، تحقیق اور نیک نیتی ہو۔ اگر اسے نفرت، الزام تراشی یا ذاتی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ معاشرتی زہر بن جاتی ہے۔ اس مقدمے نے یہ پیغام دیا کہ لفظ مقدس ہیں، مگر جب وہ جھوٹ پر قائم ہوں تو وہ ہتھیار بن جاتے ہیں۔
اس فیصلے کے بعد یہ بات واضح ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں جھوٹے الزام کی کوئی گنجائش نہیں۔ عدالت نے طے کر دیا کہ عزتِ نفس انسان کا بنیادی حق ہے، اور سوشل میڈیا پر اسے پامال کرنے والے کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ برطانوی عدالت کا یہ فیصلہ پاکستان کے لیے بھی ایک راستہ دکھاتا ہے کہ اگر ہمارے یہاں بھی قانون اسی سختی سے عمل کرے تو شاید کردار کشی کا یہ بازار ٹھنڈا پڑ جائے۔
یہ معاملہ محض ایک مقدمے تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ تاریخ کا وہ باب بن سکتا ہے جہاں عدالت نے الفاظ کے زہر کو قانون کے ہتھوڑے سے توڑ دیا۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر کھینچ دی گئی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ سبق دیا کہ سچ ثابت کرو یا خاموش رہو۔
دنیا میں اب جنگیں صرف بندوق سے نہیں، زبان سے بھی لڑی جا رہی ہیں۔ اور جب زبان قانون سے ٹکرا جائے تو فیصلہ ہمیشہ انصاف کے حق میں آتا ہے۔ برطانوی عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا جھوٹے بیانیوں سے تنگ آ چکی ہے۔ اب دلیل کی زبان میں بات ہوگی، اور جو زبان دلیل کے بغیر الزام لگائے گی وہ انصاف کے ہتھوڑے کے نیچے آ جائے گی۔ آخرکار انصاف وہ قوت ہے جو شور سے نہیں، سچ سے جنم لیتی ہے۔
یوسف صدیقی








