آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعمران ہاشمی

چھین کر میری ہر خوشی مجھ سے

عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل

چھین کر میری ہر خوشی مجھ سے
خوش نہیں پھر بھی زندگی مجھ سے

رات دیوار میرے کمرے کی
شب ڈھلے یونہی آ لگی مجھ سے

دو گھڑی میں بھی سانس لوں کھل کر
دور ہو حبس_ آگہی مجھ سے

سب اسے اختیار دے دیے ہیں
خوش رہے میری بے بسی مجھ سے

اب ترے بعد وا کیے بانہیں
مل رہی ہے تری گلی مجھ سے

اے خدا اژدہام حسرت میں
کھو گیا ہے اک آدمی مجھ سے

بے محل آ کبھی مرے دل میں
بے ارادہ بھی مل کبھی مجھ سے

قہقہے یوں نہ بے تکلف ہو
آشنائی نہ واقفی مجھ سے

عمران ہاشمی

post bar salamurdu

عمران ہاشمی

شاعر، افسانہ نگار، کالمسٹ - شعری مجموعہ ’’عکسِ جاں‘‘۲۰۱۱ - ادبی وابستگی: حلقہ اربابِ ذوق گوجرانوالہ - انجمن ترقی پسند مصنفین گوجرانوالہ و پنجاب - آغازِ شاعری 2001 - مینجنگ ڈائریکٹر: عامی پرنٹنگ پریس گوجرانوالہ - بن ہاشم پبلیکیشنز گوجرانوالہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button