آسناتھ کنولاردو غزلیاتشعر و شاعری

کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے

آسناتھ کنول کی ایک اردو غزل

کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے

جو لمحہ اس ذات کے اندر رک جاتا ہے

سورج دن بھر زہر اگلتا رہتا ہے

چاند کا زعم بھی رات کے اندر رک جاتا ہے

پہلے سانس جما دیتا ہے ہونٹوں پر

پھر وہ اپنی گھات کے اندر رک جاتا ہے

نکل نہیں سکتا دھرتی کا بنجر پن

جو قطرہ برسات کے اندر رک جاتا ہے

حرف کا دیپ ہوا سے کیسے الجھے گا

یہ نقطہ ہر بات کے اندر رک جاتا ہے

ہجر کا موسم خاموشی اور رات کا ڈر

یادوں کی بارات کے اندر رک جاتا ہے

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button