اردو غزلیاتایوب خاورشعر و شاعری

زندگی چار دن کی مہلت ہے

ایوب خاور کی اردو غزل

زندگی چار دن کی مہلت ہے
سب کو بس ایک جیسی عجلت ہے

آئیے ، بیٹھیے اور اب کہیے
آپ کو مجھ سے کیا شکایت ہے

وہ جو تُم سے گریز کرتے ہیں
یہ بھی اُن کی بڑی عنایت ہے

جھوٹ اور سچ ہیں دونوں جاں کا وبال
مصلحت میں بڑی سہولت ہے

مانیے یا نہ مانیے لیکن
آپ کو بھی مری ضرورت ہے

دل کی رگ رگ نچوڑ لیتا ہے
عشق میں یہ بڑی مصیبت ہے

کون آئے گا آپ کی خاطر
چھوڑیے ، کس کو اتنی فرصت ہے

خاور اُن سے بھی تو کہو اِک دن
ہاں مجھے آپ سے محبت ہے

ایوب خاور

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button