- Advertisement -

توبۃ النصوح – فصل ششم

شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد کا تیسرا ناول

فصل ششم

نصوح اور منجھلے بیٹے علیم کی گفتگو

نصوح نے نماز عصر سے فارغ ہو کر منجھلے بیٹے علیم کو پچھوایا کہ دیکھو مدرسے سے آئے یا نہیں۔ معلوم ہوا کہ ابھی آئے ہیں اور کپڑے اتار رہے ہیں۔ تو کہلا بھیجا کہ اپنی ضرور توں سے فارغ ہو کر ذرا میرے پاس ہو جائیں۔ تھوڑی دیر میں علیم مدرسے کا لباس اتار کتابیں ٹھکانے سے رکھ باپ کی خدمت میں جا حاضر ہوا۔ دیکھتے ہی باپ نے کہا : ” آؤ صاحب آج کل تو میں نے سنا ہے کہ تم کو بہت ہی محنت کرنی پڑتی ہے۔ ”

بیٹا : ششماہی امتحان قریب ہے، اسی کے واسطے کچھ تیاری کر رہا ہوں۔ دن تھوڑے سے رہ گئے ہیں اور کتابیں دیکھنے کو بہت باقی ہیں۔ ہر چند ارادہ کرتا ہوں کہ رات کو گھر پر کتاب دیکھا کروں۔ مگر بن نہیں پڑتا۔ لوگ جو بھائی جان کے پاس آ کر بیٹھتے ہیں، ایسی اودھم مچاتے ہیں کہ طبیعت اچاٹ ہوئی چلی جاتی ہے۔

باپ : پھر تم کچھ اس کا انسداد نہیں کرتے؟

بیٹا : اس کا انسداد میرے اختیار سے خارج ہے اور رات رائیگاں جاتی ہے۔ دن کو البتہ میں نے مکان کا رہنا ہی چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی اور اپنے کسی ہم جماعت کے یہاں چلا گیا۔

باپ : اور بڑے امتحان کے واسطے بھی کچھ تیاری کر رہے ہو؟

بیٹا : ابھی اس کے بہت دن پڑے ہیں۔ اس سے فارغ ہو کر دیکھا جائے گا۔

باپ : کیا اس کا کوئی وقت مقرر ہے؟

بیٹا : جناب، ہاں۔ بڑے دن کی تعطیل کے قریب ہوا کرتا ہے۔

باپ : نہیں نہیں، تم نے میری مراد کو نہیں سمجھا۔ میں حسابِ آخرت کو بڑا امتحان کہتا ہوں۔ کیا وہ بڑا امتحان نہیں ہے؟

بیٹا : کیوں نہیں۔ سچ پوچھئے تو سب سے بڑا امتحان وہی ہے۔

باپ : تو میں جب تمہارے ان دنیاوی چھوٹے چھوٹے امتحانوں کی خبر رکھتا ہوں، تو کیا اس بڑے سخت امتحان کی نسبت میں نے تم سے پوچھا تو کچھ بے جا کیا؟

بیٹا : جناب میں نے یہ تو نہیں کہا کہ آپ نے بے جا کیا۔ ایسا کہنا میرے نزدیک گستاخی اور گناہ دونوں ہے۔

باپ : اچھا تو میں سننا چاہتا ہوں کہ تم اس بڑے سخت امتحان کے واسطے کیا تیاری کر رہے ہو؟

بیٹا : جناب، سچ تو یہ ہے کہ میں نے اس امتحان کے واسطے مطلق تیاری نہیں کی۔

باپ : کیا یہ غفلت نہیں ہے؟

بیٹا : جناب، غفلت بھی پرلے درجے کی غفلت ہے۔

باپ : لیکن جب تم ایسے دانش مند ہو کہ دنیا کے چھوٹے چھوٹے امتحانوں کے لیے مہینوں اور برسوں پہلے سے تیاری کرتے ہو تو اس سخت امتحان سے غافل رہنا بڑے تعجب کی بات ہے۔

بیٹا : شامت نفس۔

باپ : لیکن تمہاری غفلت کا کچھ اور بھی سبب ضرور ہو گا۔

بیٹا : سبب یہی ہے، میری سہل انگاری۔

باپ : تم جواب دیتے ہو لیکن صرف لفظوں کو پھیر پھار کر۔ میں نے تم سے غفلت کا سبب پوچھا اور تم نے کہا کہ سہل انگاری اور سہل انگاری اور غفلت ایک ہی چیز ہے۔ تو گویا تم نے غفلت کو غفلت کا سبب کہا۔

بیٹا : شاید گھر میں دین داری کا چرچا ہونے سے میری غفلت کو ترقی ہوئی ہو۔

باپ : بے شک، یہی سبب ہے تمہاری غفلت کا اور میں نے تم سے کھود کھود کر اسی لیے دریافت کیا کہ جہاں تک تمہاری غفلت میری بے پرواہی کی وجہ سے ہے اس کا الزام مجھ پر ہے اور ضرور ہے کہ میں تمہارے روبرو اس کا اقرار کروں اور تم چھوٹے ہو کر مجھ کو ملامت کرو۔

بیٹا : نہیں جناب قصور سراسر میرا ہے۔ مجھ کو خدا نے اتنی موٹی بات کے سمجھنے کی عقل دی تھی کہ مجھ کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے اور میرے پیدا کرنے سے صرف یہی غرض نہیں ہونی چاہیے کہ میں جانوروں کی طرح کھانے اور پانی سے اپنا پیٹ بھر کر سو رہا کروں۔

باپ : تمہاری با توں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمہاری دینی معلومات بھی کم درجے کی نہیں ہیں۔ لیکن نہ تو میں نے دین کے مسائل تم کو خود سکھائے اور ان کے سیکھنے کی کبھی تاکید کی۔ مدرسے میں تاریخ و جغرافیہ اور ہندسہ و ریاضی کے سوائے کوئی دوسری چیز پڑھاتے نہیں۔ پھر دینی معلومات حاصل کیں تو کہاں سے کیں؟

بیٹا : اس میں شک نہیں کہ میں نے چھوٹی سی عمر میں قرآن پڑھا تھا لیکن وہ دوسرے ملک کی زبان میں ہے۔ طوطے کی طرح اول سے آخر تک پڑھ گیا، مطلق سمجھ میں نہیں آیا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ اور کیا اس کا مطلب ہے۔ پھر مکتب میں گیا تو وہاں بھی کوئی دین کی کتاب پڑھنے کا اتفاق نہ ہوا، قصے کہانی، ان میں بھی اکثر بری بری باتیں۔ یہاں تک کہ جن دنوں میں بہار دانش پڑھتا تھا، ایک پادری صاحب چاندنی چوک میں سر بازار وعظ کہا کرتے تھے، مکتب سے آتے ہوئے لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر میں بھی کھڑا ہو جاتا تھا۔ پادری صاحب کے ساتھ کتابوں کا بھی ایک بڑا ذخیرہ تھا اور اکثر لوگوں کو اس میں سے کتابیں دیا کرتے تھے۔ ہمارے مکتب کے کئی لڑ کے بھی کتابیں لائے تھے۔ انہوں نے کتاب کی جلد تو اکھاڑ لی، اور ورقوں کو یا تو پھاڑ کر پھینک دیا یا پٹھے بنائے۔ کتابوں کی عمدہ عمدہ جلدیں دیکھ کر مجھ کو بھی لالچ آیا اور میں نے کہا، چلو ہم بھی پادری صاحب سے کتاب مانگیں۔ مکتب سے اٹھ میں سیدھا پادری صاحب کے پاس چلا گیا۔ بہت سے لوگ ان کو گھیرے ہوئے تھے۔ ان میں ہمارے مکتب کے بھی دو چار لڑ کے تھے۔ لوگ ان کے ساتھ کچھ مذہبی بحث کر رہے تھے۔ اس کو میں نے خوب نہیں سمجھا۔ مگر ایک بات تھی کہ اکیلے پادری صاحب ایک طرف تھے اور ہندو، مسلمان، سینکڑوں آدمی ایک طرف۔ لوگ ان کو بہت سخت سخت باتیں بھی کہتے تھے۔ کوئی دوسرا ہوتا تو ضرور لڑ پڑتا مگر پادری صاحب کی پیشانی پر چیں بھی تو نہیں آتی تھی۔ سخت بات سن کر الٹے مسکرا دیتے تھے۔ لڑ کے ایک شیطان ہوتے ہیں۔ تھوڑی دیر تک تو کھڑے سنتے رہے، چلنے لگے تو ان میں ایک نے کہا : ” لولو ہے بے، لولو ہے۔ ” اس کی یہ بات سب لوگوں کو ناگوار ہوئی اور دو چار آدمیوں نے اس کو مارنے کے لیے تھپڑ بھی اٹھائے۔ پادری صاحب نے روکا اور منع کیا کہ خبردار! اس سے کچھ مت بولو۔ لولو موتی کو بھی کہتے ہیں۔ شاید اس نے یہ سمجھ کر کہا ہو تو اس کو انعام دینا چاہیے۔ پادری صاحب کی اس بات نے مجھ کیا، شاید سب لوگوں کے دل پر بڑا ہی اثر کیا اور جب شام ہوئی، لوگ رخصت ہوئے تو کئی آدمی آپس میں کہتے جاتے تھے کہ بھائی اس شخص کا عقیدہ چاہے کیسا ہی ہو لیکن حلم اور بردباری، یہ صفت اس میں اولیاء اللہ کی سی ہے۔

غرض پادری صاحب تو وعظ میں مصروف تھے اور میں اپنی تاک میں تھا کہ بھیڑ ذرا کم ہو یا پادری صاحب کا سلسلہ سخن منقطع ہو تو کتاب مانگوں۔ لیکن نہیں معلوم پادری صاحب کو میرے قیافے سے یا کسی طرح معلوم ہو گیا کہ میں کچھ ان سے کہنا چاہتا ہوں۔ آپ ہی پوچھا کہ صاحب زادے تم کچھ مجھ سے کہو گے؟ میں نے کہا کہ آپ سب کو کتابیں دیتے ہیں، ایک کتاب مجھ کو بھی دیجیئے۔

پادری صاحب : ” بہت خوب اس الماری میں سے تم ایک کتاب پسند کر لو۔ ” میں نے سنہری جلد کی ایک بڑی موٹی سی کتاب چھانٹی تو پادری صاحب نے کہا کہ مجھ کو اس کے دینے میں کچھ عذر نہیں۔ لیکن تم اس کو پڑھ بھی سکو گے۔ کون سی کتاب تم پڑھتے ہو؟ میں نے کہا : ” بہار دانش۔ ”

پادری صاحب : بھلا تمہارا آج کا سبق میں بھی سنوں۔

میں نے جز دان سے کتاب نکال پڑھنا شروع کیا۔ اس دن کا سبق بھی کم بخت ایسا فحش اور بے ہودہ تھا کہ لوگوں کے مجمع میں مجھ کو اس کا پڑھنا دشوار تھا۔ بہ مشکل کوئی دو تین سطریں میں نے پڑھی ہوں گی کہ پادری صاحب نے فرمایا، بے شک تم نے جو کتاب پسند کی ہے اس کو بہ خوبی پڑھ سکو گے اور وہ کتاب میں تم کو بخوشی دیتا ہوں۔ لیکن میں افسوس کرتا ہوں کہ کیوں میں نے تم کو ایسی کتاب کے پڑھنے کو کہا جس کے پڑھنے سے تم اور سننے سے میں اور یہ سب صاحب جو کھڑے ہوئے ہیں، خدا کے گنہ گار ہوئے۔ خدا ہم سب کی خطا معاف کرے اور تم چاہے میری دوسری بات مانو یا نہ مانو لیکن اس کتاب کو چھوڑ دو کہ اس کا مطلب تمہارے مذہب کے بھی بالکل خلاف ہے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ ایسے پڑھنے سے نہ پڑھنا تمہارے حق میں بہت بہتر ہے۔ یہ کتاب جو تم پڑھتے ہو، تم کو گناہ اور برائی سکھاتی اور بد اخلاقی اور بے حیائی کی خراب راہ دکھاتی ہے۔ باوجودے کہ لوگ پادری صاحب کی ہر ہر بات کو کاٹتے تھے مگر اس کو سب نے تسلیم کیا۔

پادری صاحب سے جو کتاب میں مانگ کر لایا تھا اس کا نام تو مجھ کو معلوم نہیں مگر سلیس اردو میں کسی خدا پرست اور پارسا آدمی کے حالات تھے۔ اگرچہ فی الواقع میں اس کتاب کو جلد ہی کے لالچ سے لایا تھا، لیکن میں نے کہا لاؤ میں دیکھوں تو اس میں کیا لکھا ہے۔ چناں چہ میں نے اس کو دیکھنا شروع کیا۔ جوں جوں میں اس کتاب کو پڑھتا جاتا تھا، میرا دل اس میں لگتا تھا اور اس کی باتیں مجھ کو بھلی معلوم ہوتی جاتی تھیں۔ اس کتاب کے پڑھنے سے مجھ کو معلوم ہوا کہ میرا طرز زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ اور میں روئے زمین پر بدترین مخلوقات ہوں۔ اکثر اوقات مجھ کو اپنی حالت پر رونا آتا تھا اور گھر والوں کا وتیرہ دیکھ دیکھ کر مجھ کو ایک وحشت ہوتی تھی۔ یا تو میری یہ کیفیت تھی کہ مصیبت مند لوگوں کو دیکھ کر ہنسا کرتا تھا یا اس کتاب کی برکت سے دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنے لگا۔

مکتب اور بہارِ دانش دونوں کو میں نے اسی دن سلام کیا تھا جس روز کہ پادری صاحب نے مجھ کو نصحیت کی۔ گھر میں اکیلا پڑا ہوا دن بھر اسی کتاب کو دیکھا کرتا۔ مکتب کے لڑ کے چند بار مجھ کو بلانے آئے مگر میں نہ گیا۔ آخر خود میاں جی صاحب تشریف لائے اور میں نے جی کو مضبوط کر ان سے صاف کہہ دیا کہ مجھ کو پڑھنا منظور نہیں۔ آپ ان دنوں دکن میں تشریف رکھتے تھے۔ ایک روز نصیبوں کی شامت، میں نہیں معلوم کہاں چلا گیا۔ میری غیبت میں وہ کتاب بھائی جان کی نظر پڑ گئی اور شب برات کے کوئی چار یا پانچ دن باقی تھے۔ بھائی جان کو پٹاخوں کے واسطے ردی درکار تھی۔ بے تامل کتاب کو چیر پھاڑ کر برابر کر دیا۔ میں نے آ کر دیکھا، بہتیرا سر پٹکا، کیا ہوتا تھا۔ دوڑا ہوا چوک گیا کہ پادری صاحب ہوں تو دوسرا نسخہ لاؤں۔ مگر معلوم ہوا کہ صاحب آگرے چلے گئے ہیں۔ کف افسوس مل کر رہ گیا۔ بھائی صاحب کے دوستوں سے شکایت کی، تو انہوں نے کہا : ” میاں شکر کرو کہ وہ کتاب پھٹ گئی، نہیں تو تم کرشٹان ہی ہو گئے ہوتے۔ ” یہ جواب سن کر تو مجھ کو ایک نئی حیرت پیدا ہوئی کہ اگر کرشٹان ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جن کا حال میں نے اس کتاب میں پڑھا، تو ان کو برا سمجھنا کیا معنی۔ خیر چندے خیالات رہے۔ اس کے بعد تو میں مدرسے میں داخل ہوا اور دوسرے طرف متوجہ ہو گیا۔ اگر اب میرے خیالات دین و مذہب سے کچھ علاقہ رکھتے ہیں تو یہ صرف اس کتاب کا اثر ہے، ورنہ دین کا کوئی رسالہ مجھ کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔

باپ : اہل اسلام اور عیسائیوں کے معتقدات میں کچھ اختلاف ہے۔ مگر پھر بھی جس قدر کہ عیسائیوں کا مذہب اسلام سے ملتا ہوا ہے، اتنا کوئی دوسرا مذہب نہیں ملتا۔ قرآن میں کئی جگہ عیسائیوں اور ان کے بزرگان دین قسیسوں اور راہبوں کی تعریف آئی ہے۔ عیسائیوں کی نرم دلی اور خاکساری کی مدح کی ہے۔ ان کی انجیل کلام الہٰی ہے۔ عیسائیوں کے ساتھ برتتے ہیں، ایک نام نا مشروع ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے مذہب کی عمدہ کتابیں تمہارے دل پر پادری صاحب کی کتاب سے بہتر اثر کرتیں۔ خصوصاً جو ضرورت کہ مجھ کو در پیش ہے مجھ کو یقین ہے کہ تمہارا اس کتاب کو دیکھ لینا اس میں بہت کام آئے گا۔ ہم دردی کی جیسی کچھ تاکید ہے، تم نے اس کتاب میں دیکھا ہو گا۔

بیٹا : اگر وہ مذہبی کتاب تھی، تو میں جانتا ہوں کہ خاکساری و ہمدردی شرط عیسائیت ہے۔

باپ : شرط عیسائیت، بلکہ شرط انسانیت ہے۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

لیکن میں تم سے سننا چاہتا ہوں کہ تم اس فرض کی تعمیل کہاں تک کرتے ہو۔

بیٹا : جناب شاید اگر میں اس کو ہمدردی کہہ سکوں تو مدرسے کا جو لڑکا مجھ سے کچھ پوچھنا یا پڑھنا چاہتا ہے، میں اس میں مطلق دریغ نہیں کرتا، گو میرا ذاتی حرج بھی ہوتا ہو۔ امتحان سالانہ میں مجھ کو نقد روپے ملتے تھے، میں نے ایک پیسہ اپنے اوپر خرچ نہیں کیا۔ محلے میں چند آدمی رہتے ہیں، جن کو میں محتاج سمجھتا ہوں۔ وقتاً فوقتاً انکو اس میں سے دیتا رہا۔ بلکہ ایک مرتبہ میں ایک دقت میں بھی مبتلا ہو گیا تھا۔

باپ : وہ کیا؟

ایک مرتبہ عید کو ایک بڑی بھاری ٹوپی مجھ کو اماں جان نے بنا دی تھی۔ وہی ٹوپی اوڑھے ہوئے میں خالہ جان کے یہاں جاتا تھا۔ میاں مسکین کے کوچے میں پہنچا تو بہت سے چپڑاسی پیادے ایک گھر کو گھیرے ہوئے تھے اور بہت سے تماشائی بھی وہاں جمع تھے۔ یہ دیکھ کر میں بھی لوگوں میں جا گھسا تو معلوم ہوا کہ ایک نہایت غریب بوڑھی سی عورت ہے اور چھوٹے چھوٹے کئی بچے ہیں۔ سرکاری پیادے اس کے میاں کو پکڑے لیے جاتے تھے۔ اس واسطے کہ اس نے کسی بنیے کے یہاں سے ادھار کھایا تھا اور بنیے نے اس پر ڈگری جاری کرائی تھی۔ وہ مرد مانتا تھا کہ قرضہ واجب ہے، مگر کہتا تھا کہ میں کیا کروں، اس وقت بالکل تہی دست ہوں۔ ہر چند اس بے چارے نے بنیے کی اور سرکاری پیادوں کی بہتری ہی خوشامد کی، مگر نہ بنیا مانتا تھا، نہ پیادے باز آتے تھے اور پکڑے لیے جاتے تھے۔ لوگ جو وہاں کھڑے تھے، انہوں نے بھی کہا : ” لالہ، جہاں تم نے اتنے دنوں صبر کیا، دس پانچ روز اور صبر جاؤ۔ ” تو بنیا بولا : ” اچھی کہی میاں جی، اچھی کہی! برسوں کا نانواں اور درج کی ٹال مٹول۔ بھگوان جانے ابھی تو کھان صاحب کی اجت اتروائے لیتا ہوں۔

وہ شخص جس پر ڈگری جاری تھی، غریب تو تھا، لیکن غیرت مند بھی تھا۔ بنئے نے جو عزت اتروانے کا نام لیا، سرخ ہو گیا اور گھر میں گھس، تلوار میان سے نکال چاہتا تھا کہ بنئے کا سر الگ کر دے کہ اس کی بیوی اس کے پیروں میں لپٹ گئی اور رو کر کہنے لگی : ” خدا کے لیے کیا غضب کرتے ہو۔ یہی تمہارا غصہ ہے تو پہلے مجھ پر اور بچوں پر ہاتھ صاف کرو۔ کیوں کہ تمہارے بعد ہمارا تو کہیں بھی ٹھکانا نہیں۔ ” ماں کو روتا دیکھ بچے اس طرح دھاڑیں مار کر روئے کہ میرا دل ہل گیا اور دوڑ کر سب کے سب باپ کو لپٹ گئے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر خان صاحب بھی ٹھنڈے ہوئے اور تلوار کو میان کر کھونٹی سے لٹکا دیا اور بی بی سے کہا : "اچھا تو نیک بخت، پھر مجھ کو اس بے عزتی سے بچنے کی کوئی تدبیر بتا۔ ” بی بی نے کہا : ” بلا سے جو چیز گھر میں ہے، اس کو دے کر کسی طرح اپنا پنڈ چھڑاؤ۔ تم کسی طرح رہ جاؤ تو پھر جیسی ہو گی دیکھی جائے گی۔

توا، چکی، پانی پینے کا کٹورا، نہیں معلوم کن کن وقتوں کی ہلکی ہلکی بے قلعی دو پتیلیاں، بس یہی اس گھر کی کل کائنات تھی۔ چاندی کی دو چوڑیاں، لیکن ایسی جیسے تار، اس نیک بخت کے ہاتھوں میں تھیں۔ یہ سب سامان خان صاحب نے باہر لا کر اس بنئے کے رو بہ رو رکھ دیا۔ اول تو بنیا ان چیزوں کو ہاتھ ہی نہیں لگاتا تھا۔ لوگوں نے بہت کچھ کہا سنا۔ یہاں تک کہ ان سرکاری پیادوں کو بھی رحم آیا، انہوں نے بھی بنئے کو سمجھایا۔ بارے خدا خدا کر کے وہ اس بات پر رضا مند ہوا کہ پانچ روپے اصل، دو روپے سود، سا توں کے سا توں دے دیں تو فارغ خطی لکھ دے۔ لیکن خان صاحب کا کل اثاثہ چار ساڑھے چار سے زیادہ کا نہ تھا۔ تب پھر گھر میں گئے اور بی بی سے کہا ڈھائی روپے کی کسر رہ گئی ہے۔ تو بی بی نے کہا : اب تو کوئی چیز بھی میرے پاس نہیں، ہاں لڑکی کے کانوں میں چاندی کی بالیاں ہیں۔ دیکھو جو ان کو ملا کر پوری پڑے۔

وہ لڑکی کوئی چھ برس کی تھی۔ بس بعینہ جتنی ہماری حمیدہ۔ ماں جو لگی اس کی بالیاں اتارنے تو وہ لڑکی اس حسرت کے ساتھ روئی کہ مجھ سے ضبط نہ ہو سکا اور میں نے دل میں کہا کہ الہٰی اس وقت مجھ سے کچھ بھی اس کی مد د نہیں ہو سکتی۔ فوراً خیال آیا کہ ایک روپیہ اور کوئی دو آنے کے پیسے تو نقد میرے پاس ہیں۔ دیکھوں ٹوپی بک جائے تو شاید خاں صاحب کا سارا قرضہ چک جائے۔ بازار تو قریب تھا ہی، فوراً گلی کے باہر نکل آیا۔ رومال تو سر سے لپیٹ لیا اور ٹوپی ہاتھ میں لے کر ایک گوٹے والے کو دکھائی۔ اس نے چھ کی آنکی۔ میں نے بھی چھوٹتے ہی کہا : لا بلا سے چھ ہی دے۔ ” غرض چھ وہ، ایک میرے پاس نقد تھا، سا توں روپے لے کر میں نے چپ کے سے اس عورت کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ تب تک پیادے خاں صاحب کو گرفتار کر کے لے جا چکے تھے اور گھر میں رونا پیٹنا مچ رہا تھا۔ دفعتہً پورے سات روپے ہاتھ میں دیکھ کر اس عورت پر شادی مرگ کی سی کیفیات طاری ہو گئی۔ اور اس خوشی میں اس نے کچھ نہیں سوچا کہ یہ روپیہ کیسا ہے اور کس نے دیا۔ فوراً اپنے ہمسائے کو روپیہ دے کر دوڑایا اور خود بچوں سمیت دروازے میں آ کھڑی ہوئی۔ بات کی بات میں خاں صاحب چھوٹ آئے تو بچوں کو کیسی خوشی کہ کودیں اور اُچھلیں، کبھی باپ کے کندھے پر، کبھی ماں کی گود میں اور کبھی ایک پر ایک۔

اب اس عورت کو میرا خیال آیا اور بچوں سے بولی : کم بختو، کیا اودھم مچائی ہے۔ (اور میری طرف اشارہ کر کے کہا) دعا دو اس اللہ کے بندے کی جان و مال کو جس نے آج باپ کی اور تم سب کی جانیں رکھ لیں، نہیں تو ٹکڑا بھی مانگا نہ ملتا۔ کوئی چچا یا ماموں بیٹھا تھا کہ اس کو تمہارا درد ہوتا اور اس مصیبت کے وقت تمہاری دست گیری کرتا۔ صرف ایک باپ کے دم کا سہارا کہ اللہ رکھے، اس کے ہاتھ پاؤں چلتے ہیں تو محنت سے مزدوری سے، خدا کی شکر ہے، روکھی سوکھی روز کے روز، دو وقت نہیں تو ایک ہی وقت ملے تو جاتی ہے۔ ہمارے حق میں تو یہ لڑکا کیا ہے رحمت کا فرشتہ ہے۔ نہ جان نہ پہچان، نہ رشتہ نہ ناتا اور اس اللہ کے بندے نے مٹھی بھر روپے دے کر آج ہم سب کو نئے سرے سے زندہ کیا۔

وہ بچے جس شکر گزاری کی نظر سے مجھ کو دیکھتے تھے، اس کی مسرت اب تک میں اپنے دل میں پاتا ہوں۔ روپیہ خرچ کرنے کے بعد مجھ کو عمر بھر ایسی خوشی نہیں ہوئی، جیسی کہ اس دن تھی۔ مگر دونوں میاں بیوی کے ذہن میں اس وقت یہ بات نہیں آئی تھی کہ میں نے روپیہ ان کو دے دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ قرض کے طور پر دیا ہے۔ وہ عورت مجھ کو اپنے گھر میں لے گئی اور ٹوٹی سی ایک چوکی پڑی تھی، میں ہر چند منع کرتا رہا، جلدی سے اس کو اپنے ڈوپٹے سے جھاڑ مجھ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میاں سے بولی : "نوج کوئی تم جیسا بے خبر ہو۔ کھڑے کیا ہو۔ جاؤ، ایک گلوری بازار سے میاں کے لیے بنوا لاؤ۔ ”

میں : نہیں میں پان نہیں کھاتا۔ تکلیف مت کرو۔

عورت : بیٹا تمہاری خدمت میں اور ہم کو تکلیف؟ جی چاہتا ہے کہ آنکھیں تمہارے تلووں میں بچھا دوں۔ قربان اس پیاری پیاری صورت کے۔ نثار اس بھولی بھالی شکل کے۔ بیٹا! تم یہ بتاؤ کہ تم ہو کون؟

میں : میری خالہ، میاں صابر بخش کی سرائے میں رہتی ہیں۔

عورت : پھر بیٹا یہ اپنا روپیہ تم ہم سے کب لو گے؟ ہم اپنا اور بچوں کو پیٹ کاٹیں گے اور تمہارا قرضہ سب سے پہلے ادا کریں گے، مگر کام ان دنوں مندا ہے۔ دیں گے تو ہم جس طرح بن پڑے گا وہ ہی مہینے میں، مگر جہاں تم نے اتنی مہربانی کی ہے، للہ اتنا سلوک اور کرو کہ دو روپے مہینہ قسط کا لے لیا کرو۔

میں : آپ روپے ادا کرنے کی فکر نہ کیجئے۔ میں نے لینے کی نیت سے نہیں دیے۔

یہ سن کر تمام خاندان کا خاندان اتنا خوش ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا اور میں ان میں وقعت کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جیسے خوش دل اور شکر گزار رعایا میں کوئی بادشاہ یا حلقہ مریدان ارادت مند میں کوئی پیر و مرشد۔ اس عورت کے منہ سے مارے خوشی اور شکر گزاری کے بات نہیں نکلتی تھی۔ بار بار میری بلائیں میں رومال سر سے کھسک گیا تو اس نے دیکھا کہ میرے سر پر ٹوپی نہیں پوچھا تو مجھ کو کہنا پڑا کہ وہی ٹوپی بیچ کر میں نے روپیہ دیا۔ پھر تو اس کا یہ حال تھا کہ بچھی جاتی تھی۔ سات روپیہ کی بھی کچھ حقیقت تھی مگر اس نے مجھ کو سینکڑوں ہزاروں ہی دعائیں دی ہوں گی۔ اس نے جو اتنی احسان مندی ظاہر کی تو میں الٹا اسی کا ممنون ہوا۔ جس قدر خوشامد کرتی تھی، میں شرمندہ ہوتا تھا اور جتنا وہ عاجزی سے پیش آتی تھی، میں زمین میں گڑا جاتا تھا۔

غرض میں وہاں سے رخصت ہوا تو ٹوپی نہ ہونے کی وجہ سے سیدھا گھر لوٹ آیا۔ عین گلی میں بھائی جان سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے میری ہیئت کذائی دیکھ کر تعجب کیا اور بولے : ” ایں کیا ٹوپی کے بدلے چنے لے کھائے؟” میں نے کچھ جواب نہیں دیا، اس واسطے کہ مجھ کو اس بات کا ظاہر کرنا منظور نہ تھا۔ شام کو بھائی جان سے اور اماں جان سے ت کرار ہوئی۔ بھائی جان کچھ روپے مانگتے تھے اور اماں جان کہتی تھیں : بیٹا اس فضول خرچیوں سے گھر کے دن چلے گا؟ لو پرسوں میں نے تم کو چار روپے دیے تم نے چاروں کے چاروں برابر کیے۔ ناخن بھر چیز تم گھر میں لائے ہو تو بتا دو۔ اتنا چٹور پن، ایسا اسراف!” بھائی جان نے کہا : ” میں چٹورا نہیں ہوں، چٹورے تمہارے منجھلے صاحبزادے ہیں۔ جن کو تم بڑا مولوی سمجھتی ہو کہ سر کی ٹوپی تک بیچ کر کھا گئے۔

اماں جان نے مجھ کو بلا کر پوچھا : میں نے کہا : "اگر بیچ کھانا ثابت ہو جائے تو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔ ”

اماں جان : پھر کہیں کھو دی؟

میں : کھوئی بھی نہیں۔

اماں جان : بھائی تو تو عجب تماشے کا لڑکا ہے۔ بیچی نہیں، کھوئی نہیں، پھر ٹوپی گئی تو کہاں گئی؟

میں : اگر آپ کو میری بات کا اعتبار ہے تو بس سمجھ لیجئے کہ میں نے کہیں اس کو بے جا طور پر صرف نہیں کیا۔

اماں جان : اگر یہی تمہارے لچھن ہیں تو تم نے پڑھ لکھ کر ڈبو دیا۔

میں اس وقت عجب مشکل میں مبتلا تھا۔ ظاہر کرنے کو جہ نہ چاہتا تھا اور بے ظاہر کیے بن نہ پڑتی تھی۔

گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل

مگر مجھ کو یقین تھا کہ جب میرا معاملہ پاک صاف ہے تو بالفعل بھائی جان کے کہنے اور میرے چپ رہنے سے اماں جان کو ایک بدگمانی سی ہو گئی ہے لیکن کبھی نہ کبھی ضرور ان کے دل سے خدشہ رفع ہو ہی جائے گا اور کچھ نہ ہو گا تو میرے اگلے پچھلے فعلوں کو دیکھ کر اتنا تو سمجھ لیں گی کہ بیٹا بد راہ نہیں ہے، نہیں معلوم ٹوپی کا کیا بھید ہے۔ سو خدا کی قدرت، ایک ہفتہ بھی نہیں گزرا تھا کہ صالحہ بیمار پڑی تو اماں جان اس کی عیادت کو گئیں۔ میں ان کے ساتھ تھا۔ ابھی اماں جان سواری سے نہیں اتری تھیں کہ ادھر سے وہی خان صاحب چلے آ رہے تھے۔ مجھ کو دیکھ کر دور ہی سے دعائیں دینے لگے اور ایسے تپاک اور دل سوزی کے ساتھ میری خیر و عافیت پوچھی کہ جیسے کوئی اپنا بزرگ اور عزیز دریافت حال کرتا ہے۔ خیر میں نے مناسب حالت جواب دیا۔ اماں جان آخر یہ سب باتیں پردے کے اندر بیٹھی ہوئی سن رہی تھیں۔ اترتے کے ساتھ ہی مجھ سے پوچھا : ” علیم، یہ کون شخص تھا جو تم سے باتیں کرتا تھا؟”

میں : یہ ایک خان صاحب ہیں اور میاں مسکین کے کوچے میں رہتے ہیں۔ بس میں اسی قدر جانتا ہوں۔

اماں جان : لیکن باتیں تو تم سے ایسے گرویدہ ہو کر کرتے تھے کہ گویا برسوں کی پہچان ہے۔

میں : نہیں شاید ان کو میرا نام بھی معلوم نہیں۔

اماں جان : پھر تمہارے ساتھ ایسے خلوص سے کیوں پیش آئے؟

میں : بعض لوگوں کا دستور ہوتا ہے کہ ذرا سے تعارف سے بھی بڑے تپاک کے ساتھ پیش آیا کرتے ہیں۔

اگرچہ میرے جواب سے اماں جان کی تشفی نہیں ہوئی مگر ان کو اندر جانے کی جلدی تھی، چلی گئیں۔ خان صاحب نے کہیں اپنے گھر میں میرا تذ کرہ کیا۔ میں تو گھر چلا آیا۔ مگر گمان غالب ہے کہ ان کی بیوی اماں جان کے پاس گئیں اور میرے اس ٹوپی بیچنے اور روپیہ دینے کا تمام ماجرا بیان کیا۔ پھر جو اماں جان آتئیں تو مجھ سے کہنے لگیں : ” علیم ہم نے تمہاری چوری آخر پکڑی پر پکڑی۔ ” میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ ” میری چوری؟”

اماں جان : ہاں تمہاری چوری۔

میں : بھلا میں بھی تو سنوں۔

اماں جان : کیوں؟ تم پہلے ٹوپی کا حال بتاؤ تب مجھ سے اپنی چوری کی حقیقت سنو۔

اتنا کہنے سے میں سمجھ گیا اور ہنس کر چپ ہو رہا۔

باپ : بے شک، جتنی باتیں تم نے بیان کیں، داخل ہمدردی ہیں۔ خصوصاً خان صاحب کا قصہ ہمدردی کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ لیکن چشمے سے وہ مقامات سیراب ہونے چاہئیں جہاں سے وہ چشمہ نکلا ہے۔ اسی طرح پہلے اپنے عزیز و اقارب، نیکی اور سلوک کے مستحق ہیں۔

بیٹا : میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ میرے قریب کے رشتہ دار میرے سلوک کے حاجت مند نہیں ہیں اور خدا نے ان کو مجھ سے بے نیاز اور مستغنی کیا ہے۔

باپ : کیا سلوک صرف روپے پیسے کے دینے سے ہی ہوتا ہے۔

بیٹا : میں تو ایسا ہی سمجھتا تھا۔

باپ : نہیں، جو جس چیز کا حاجت مند ہے اس کا رفع حاجت کرنا ہمدردی اور نفع رسانی ہے۔ ہمارا خاندان دین داری سے بے بہرہ اور خدا شناسی سے بے نصیب ہے اور شیوہ خدا پرستی میں ہر ہر متنفس کو تعلیم و تلقین کی حاجت اور وعظ و نصیحت کی ضرورت ہے۔ تم نے اس فرض کو ادا کرنا تو در کنار ابھی تک فرض ہی نہیں سمجھا۔

بیٹا : آپ بجا فرماتے ہیں، مجھ سے بڑی غلطی ہوئی۔

باپ : اور تم سے کہیں زیادہ غلطی میری ہے۔ بہر کیف، اب بھی تلافی مافات کرنی ضرور ہے اور میں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ اپنے گھر میں کسی کو لا یعنی طور پر زندگی نہ بسر کرنے دوں۔ اگرچہ اس بات کو نہایت حسرت و افسوس کے ساتھ تسلیم کرتا ہوں کہ اب اصلاح کا وقت باقی نہیں اور میرا عزم، عزم بے ہنگام ہے۔ لیکن اگر تم میری مد د کرو تو میں کامیابی کی بہت کچھ امید کر سکتا ہوں۔

بیٹا : انشاء اللہ آپ مجھ کو نافرمان بیٹا اور نا خلف فرزند نہیں پائیں گے۔ مگر مجھ کو حیرت ہے کہ میں آپ کی کیا مد د کر سکوں گا۔

باپ : تمہارا یہی مد د کرنا کہ بس تم دین داری کا نمونہ بن جاؤ اور اگرچہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں تم نے بہ ضرورت امتحان، موسمی توبہ کر رکھی ہے لیکن مناسب یہ ہے کہ گنجفہ، شطرنج، کنکوا، بٹیریں، مرغ، تمام مشاغل لا یعنی کے ترک کا عہد واثق کرو۔

بیٹا: یہ تو سراسر میری منفعت کی بات ہے اور میں اس میں کسی طرح کا انکار کروں تو آپ کی نا فرمانی، اپنی خرابی خدا کا گناہ، دنیا کی بدنامی، عاقبت کی رسوائی، کوئی پہلو بھی تو اچھا نہیں اور اگر بالفرض آپ کوئی ایسی بات بھی فرماتے جس میں میرا نقصان ہوتا، تاہم مجھ کو سوائے تعمیل ارشاد کیا چارہ تھا۔ بندہ اور خدا، غلام اور مالک، رعیت اور بادشاہ، نو کر اور آقا، بیوی اور شوہر، شاگرد اور استاد، بیٹا اور باپ، میں تو جانتا ہوں کہ یہ سب کچھ ایک ہی طرح کی نسبتیں ہیں اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ انشاء اللہ میرا طرز زندگی آئندہ ایسا ہی ہو گا جیسا آپ کو منظور ہے۔

باپ: بارک اللہ و جزاک اللہ۔ بس تم نے آج مجھ کو مطمئن کر دیا۔ خدا تم کو دین اور دنیا دونوں میں سرخرو رکھے۔ اچھا اب جاؤ اپنا کام کرو۔ ذرا اپنے بڑے بھائی کو میرے پاس بھیج دینا۔

بیٹا: شاید آپ یہی گفتگو ان سے کرنی چاہتے ہیں۔

باپ: ضرور۔

بیٹا: اگر بالمشافہ ان سے گفتگو نہ ہوتی تو میرے نزدیک بہتر تھا۔

باپ: تمہارا خوف بے جا نہیں۔ میں کئی کئی دن سے اس بات پر غور کر رہا ہوں۔ آخر کار یہی تجویز ٹھہری کہ ایک دفعہ مجھ کو رو در رو اتمام حجت کر دینا ضرور ہے۔

ڈپٹی نذیر احمد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد کا تیسرا ناول