اردو غزلیاتبشیر بدرشعر و شاعری

اب ہے ٹوٹا سا دل خود سے بیزار سا

اردو غزل از بشیر بدر

اب ہے ٹوٹا سا دل خود سے بیزار سا
اس حویلی میں لگتا تھا دربار سا

اس طرح ساتھ نبھنا ہے دشوار سا
میں بھی تلوار سا تو بھی تلوار سا

خوب صورت سی پاؤں میں زنجیر ہو
گھر میں بیٹھا رہا میں گرفتار سا

گڑیا گڈے کو بیچا خریدا گیا
گھر سجایا گیا رات بازار سا

شام تک کتنے ہاتھوں سے گزروں گا میں
چائے خانوں میں اردو کے اخبار سا

میں فرشتوں کی محبت کے لائق نہیں
ہمسفر کوئی ہوتا گناہ گار سا

بات کیا ہے مشہور لوگوں کے گھر
موت کا سوگ ہوتا ہے تیوہار سا

زینہ زینہ اترتا ہوا آئینہ
اس کا لہجہ انوکھا کھنک دار سا

وہ علی گڑھ کی شامیں کہاں کھو گئیں
اب وہ شاعر کہاں ہے طرح دار سا

بشیر بدر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button