اردو غزلیاتجون ایلیاشعر و شاعری

یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیا

جون ایلیا کی ایک غزل

یہ اکثر تلخ کامی سی رہی کیا
محبت زک اٹھا کر آئی تھی کیا

نہ کثدم ہیں نہ افعی ہیں نہ اژدر
ملیں گے شہر میں انسان ہی کیا

میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں
فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا

یہ ربط بے شکایت اور یہ میں
جو شے سینے میں تھی وہ بجھ گئی کیا

محبت میں ہمیں پاس انا تھا
بدن کی اشتہا صادق نہ تھی کیا

نہیں ہے اب مجھے تم پر بھروسا
تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا

جواب‌ بوسہ سچ انگڑائیاں سچ
تو پھر وہ بیوفائی جھوٹ تھی کیا

شکست اعتماد ذات کے وقت
قیامت آ رہی تھی آ گئی کیا

 

جون ایلیا

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button