آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزرحمت عزیز خان

14 آگست اور ایک عام آدمی

تحریر : رحمت عزیز خان چترالی

14 آگست اور ایک عام آدمی کی ٹاٹ کے سکول سے ورلڈ ریکارڈ تک کا سفر

میں وادیٔ کھوت کے گاؤں میراندھ چترال کا ایک ڈیجیٹل مزدور ہوں۔ میرا نام رحمت عزیز خان ہے۔ لوگ محبت سے مجھے رحمت عزیز چترالی کہتے ہیں۔ میں کوئی نواب نہیں، نہ میرے دادا کو کسی بادشاہ نے جاگیر عطا کی، نہ باپ کسی دربار کا منصب دار تھا۔ میری جاگیر اگر کوئی ہے تو چند حروف، چند لفظ، چند کتابیں اور ایک ایسی زبان ہے جسے میں نے اپنی ماں کی گود سے وراثت میں پایا اور جسے عمر بھر اپنے قلم، کی بورڈ اور آواز سے زندہ رکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ اور وہ زبان کھوار (چترالی) ہے۔
میری پیدائش 25 اپریل 1970ء کو وادیٔ کھوت، میراندھ، تورکھو، ضلع چترال صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) میں ہوئی۔ آپ یوں سمجھ لیجیے کہ میں نے آنکھ کھولی تو سامنے ہندوکش اور تریچ میر کے برف پوش پہاڑ تھے، اوپر نیلا اور صاف آسمان تھا، نیچے دریا تھا اور چاروں طرف ایک ایسی زبان تھی جس میں میری دنیا بولتی تھی۔ میرے پاس نہ شہر کی بڑی لائبریری تھی، نہ کمپیوٹر کی سہولت، نہ کسی بڑے ادارے کی چھت۔ مگر ایک عجیب شوق بچپن ہی سے لاحق تھی یعنی لفظ دیکھتا تو اس کے پیچھے چھپی ہوئی دنیا تلاش کرنے لگتا تھا۔
چودہ برس کی عمر میں پہلا کھوار ملی نغمہ "اے وطن پاک وطن” لکھا۔ تب معلوم نہ تھا کہ یہ چھوٹا سا شوق ایک دن مجھے شاعری سے لغت نویسی، لغت نویسی سے لسانیات، لسانیات سے کمپیوٹر اور کمپیوٹر سے پاکستان کی متعدد زبانوں تک لے جائے گا۔ میں نے شاید اس وقت یہ سوچا تھا کہ کھوار زبان میں شعر لکھ رہا ہوں، مگر وقت نے بتایا کہ میں دراصل اپنی زبان کے لیے ایک راستہ بنا رہا ہوں۔
ابتدائی زمانے میں مجھے اپنی مادری زبان کھوار میں شاعری کا شوق تھا پھر اردو میں بھی شاعری کی۔ جگر مراد آبادی، اختر شیرانی اور حبیب جالب جیسے شعرا کی آوازیں ذہن میں گونجتی تھیں۔ کھوار زبان میں غزل کہی، نظم لکھی، طنزیہ و مزاحیہ اشعار لکھے اور کبھی کبھی زمانے کے تیور دیکھ کر قلم کو بھی کو بھی یوں مخاطب کیا:

جب ہاتھ قلم کا قلم ہوگا
مدعا کس طرح رقم ہوگا

چترال سے کراچی آیا تو ادبی اور صحافتی سرگرمیوں نے میرے مزاج کو نئی سمت دی۔ اردو اور کھوار میں اخبارات و رسائل سے وابستگی ہوئی۔ چترال وژن، شندور اور دوسرے ادبی پلیٹ فارم میرے لیے صرف اشاعت کے وسیلے ہی نہیں بلکہ یہ زبان اور معاشرے سے گفتگو کے راستے تھے۔
میں نے دیکھا کہ بعض لوگ زبان کو صرف بولنے کی چیز سمجھتے ہیں اور بعض اسے زندگی سمجھتے ہیں۔ میں دوسری قسم کا آدمی نکلا۔
سو میں نے سوچا کہ اگر زبان کمپیوٹر پر نہ لکھی جا سکے تو اس کی جدید دنیا میں جگہ کہاں ہوگی؟ یہی سوال مجھے کی بورڈ کی دنیا میں لے گیا۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ میں نے پاکستانی زبانوں کے لیے سافٹ ویئر بنانے کا کام شروع کیا۔ کھوار کے لیے کی بورڈ بنایا، اس کے مخصوص حروف کے لیے ڈیجیٹل حل تلاش کیے، پھر دوسری پاکستانی زبانوں کی طرف متوجہ ہوا۔ اردو، سندھی، سرائیکی، پشتو، کالاشہ، بروشسکی، گواربتی، بلتی اور دوسری زبانوں کے لیے بھی کام کیا۔
لوگوں نے پوچھا: تم شاعری چھوڑ کر یہ کیا کر رہے ہو؟
میں نے کہا کہ شعر کاغذ پر رہ جائے تو ایک شاعر کی آواز ہے، زبان کو کمپیوٹر پر جگہ مل جائے تو ایک پوری قوم کی آواز بن سکتی ہے۔
چالیس سے زائد پاکستانی زبانوں کو ایک ہی سافٹ ویئر کے ذریعے تحریر کے قابل بناکر ورلڈ ریکارڈ قائم کرکے اپنے ملک پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے کا اعزاز میرے کام کی وجہ شہرت بنا۔ میرے لیے یہ کوئی محض تکنیکی تجربہ نہ تھا۔ میں اسے پاکستان کی لسانی وحدت میں تنوع کی حفاظت کا ایک معمولی سا حصہ سمجھتا ہوں۔ بڑے شہروں کی زبانوں کو سہولتیں مل جاتی ہیں، چھوٹی زبانیں اکثر سہولتوں کی منتظر رہتی ہیں۔ مجھے ہمیشہ انہی منتظر زبانوں کی فکر رہی۔
میں نے کھوار، اردو انگریزی لغت بنائی، دیگر زبانوں سے اردو اور کھوار میں ترجمے کیے، لسانی مواد جمع کیا، کھوار سے اردو اور انگریزی تراجم کیے، پاکستانی زبانوں پر تحقیق کی اور طلبہ و محققین کی مدد کی۔ علامہ اقبال کی فارسی اور اردو شاعری سے منتخب کلام کے کھوار منظوم تراجم کی طرف بھی متوجہ ہوا۔ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم، زبورِ عجم اور ارمغانِ حجاز جیسے بڑے ادبی ذخیرے سے انتخابی کرکے کھوار کے شعری قالب میں منتقل کیا، کھوار اور اردو یہ دو تہذیبی اور لسانی دنیاؤں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی یہ پہلی کوشش تھی۔
مجھے کتابوں سے بھی دوستی رہی اور کمپیوٹر سے بھی۔ ایک طرف گلدانِ رحمت اور گلدستۂ رحمت میں طنز و مزاح کے تیر چلائے، دوسری طرف کی بورڈ کی کنجیوں میں زبانوں کے لیے جگہ بنائی۔ صدائے چترال میں خطوط کو جمع کیا، تحقیقی مضامین لکھے، بچوں کے لیے ادب تخلیق کیا اور ترجمے کے ذریعے مختلف زبانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کی۔
آپ مجھے شاعر کہیں، مصنف کہیں، مترجم کہیں، محقق کہیں، سائنسدان کہیں، موجود کہیں، ماہر لسانیات کہیں یا سافٹ ویئر بنانے والا کہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ بس اتنا ضرور کہیے کہ میں نے جو کچھ کیا، اس میں اپنی زبان اور اپنے ملک پاکستان کی زبانوں کے لیے کچھ کرنے کی نیت شامل تھی۔
میں نے اردو ویکیپیڈیا پر بھی کام کیا۔ دنیا بدل رہی تھی، معلومات کتابوں کی الماری سے نکل کر اسکرین پر آ رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر ہماری زبانیں اس نئی دنیا میں اپنی جگہ نہ بنائیں تو آنے والی نسلیں اپنے ہی علمی ورثے کو دوسروں کی زبان میں تلاش کریں گی۔ چنانچہ اردو اور پاکستانی زبانوں کے لیے لکھنا، ترجمہ کرنا اور معلومات مرتب کرنا بھی میرے سفر کا حصہ بن گیا۔
میری طبیعت میں شاید ایک خرابی یہ بھی ہے کہ جہاں کوئی مشکل نظر آتی ہے، وہاں سوال پیدا ہو جاتا ہے۔ اور سوال پیدا ہو جائے تو چین نہیں آتا۔
کھوار کا سوال تھا تو کھوار پر کام کیا۔ پاکستان کی مادری زبانوں کا سوال تھا تو ان زبانوں کی طرف گیا۔ معدومیت کے خطرے سے دوچار زبانوں کا سوال تھا تو ان کے لیے سافٹ ویئر بنانے لگا۔ مادری زبان میں تعلیم کا سوال سامنے آیا تو نصاب کی بات کی۔ نوجوان محقق سامنے آیا تو ترجمے اور مواد سے اس کی مدد کی۔
مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ زبان صرف لغت اور قواعد کا نام نہیں۔ زبان ایک قوم کی یادداشت ہے۔ اس میں ماں کی لوری بھی ہوتی ہے، باپ کی نصیحت بھی، پہاڑ کا نام بھی، دریا کی آواز بھی، محبت بھی، مزاح بھی اور تاریخ بھی۔
اسی لیے میری دلچسپی زبان سے نکل کر انسان تک پہنچتی ہے۔
میری شاعری میں طنز ہے تو اس لیے کہ معاشرے کی کمزوریاں مجھے دکھائی دیتی ہیں۔ مزاح ہے تو اس لیے کہ بعض سچائیاں سنجیدہ لہجے میں کہی جائیں تو لوگ کان بند کر لیتے ہیں۔ سو میں نے کبھی کبھی مسکرا کر وہ بات کہہ دی جسے لوگ سنجیدگی سے سننے کو تیار نہ تھے۔
میں نے ناانصافی کے خلاف لکھا، آمریت پر طنز کیا، سیاسی حالات کو شاعری کا موضوع بنایا اور عام آدمی کے دکھ کو لفظ دینے کی کوشش کی۔ میرے نزدیک قلم کا کام صرف تعریف کرنا نہیں، سوال کرنا بھی ہے۔
مجھے بے شمار ملکی اور بین الاقوامی اعزازات بھی ملے۔ گولڈ میڈل ملے، ملکی اور بین الاقوامی اعزازات کا ذکر بھی میرے نام کے ساتھ آنے لگا۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان سے منسوب گولڈ میڈل، پرائڈ آف دی نیشن گولڈ میڈل، انٹرنیشنل انوویشن ایوارڈ، عالمی امن انعام (پبلک پیس پرائیز) اور دوسرے اعزازات میرے کام کی قدر افزائی کے طور پر سامنے آئے۔ مگر میں نے ہمیشہ یہ سمجھا کہ اعزاز سفر کا اختتام نہیں، راستے میں رکھا ہوا ایک سنگِ میل ہے۔ آدمی اگر سنگِ میل کو منزل سمجھ لے تو پھر راستہ ختم ہو جاتا ہے۔ اور میں ابھی راستے میں ہوں۔
میں کئی اداروں میں ملازمت سے بھی وابستہ رہا، دفتری زندگی کی اپنی الجھنیں دیکھیں، فائلیں دیکھیں، نوٹ لکھے، ضابطے پڑھے اور لوگوں کے کام ہوتے دیکھے اور رکتے بھی دیکھے۔ دفتر نے مجھے ایک اور سبق دیا وہ یہ کہ انسان کتاب سے کم اور حالات سے زیادہ سیکھتا ہے۔ مگر جہاں بھی رہا، زبان میرے ساتھ رہی۔ میرے لیے چترال صرف ایک سیاحتی مقام ہی نہیں۔ یہ میری آواز کا پہلا حرف ہے۔ وادیٔ کھوت میری یادداشت کا پہلا صفحہ ہے۔ کھوار میری مادری زبان ہے اور اردو میری وسیع تر ادبی دنیا سے گفتگو کا وسیلہ ہے۔ میں اردو اور کھوار دونوں کو ایک دوسرے کا حریف نہیں سمجھتا۔ زبانیں دروازے ہیں، دیواریں نہیں۔
14 اگست میرے لیے صرف جھنڈیاں لگانے، ملی نغمے سننے اور سبز لباس پہننے کا دن نہیں۔ یہ سوال کرنے کا دن بھی ہے کہ آزادی کا مطلب کیا ہے؟
پاکستان آزاد ہوا تو جغرافیہ آزاد ہوا، مگر ہر نسل کو اپنی فکری، علمی اور لسانی آزادی خود تعمیر کرنی پڑتی ہے۔ ایک ملک صرف دارالحکومت سے نہیں بنتا۔ وہ ان وادیوں سے بھی بنتا ہے جہاں دور پہاڑوں کے درمیان کوئی بچہ اپنی مادری زبان میں پہلی بار لفظ بولتا ہے۔
اگر پاکستان کی آزادی کا مطلب اپنی شناخت کی حفاظت بھی ہے تو پھر پاکستان کی تمام زبانیں اس شناخت کا حصہ ہیں۔
اردو ہماری قومی زبان ہے، مگر کھوار، شینا، بلتی، بروشسکی، کالاشہ، گواربتی اور دوسری زبانیں بھی اسی پاکستان کی تہذیبی دولت ہیں۔ ان زبانوں کو زندہ رکھنا پاکستان کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ پاکستان کے ثقافتی رنگوں کو محفوظ کرنا ہے۔
میں نے اپنی چھوٹی سی بساط پر یہی کام کیا ہے۔
کوئی سرحد پر بندوق لے کر کھڑا ہوتا ہے، کوئی سائنس کی تجربہ گاہ میں ملک کا نام روشن کرتا ہے، کوئی اسپتال میں مریض کا علاج کرتا ہے، کوئی اسکول میں بچوں کو پڑھاتا ہے۔ میں نے اپنی طرف سے زبانوں کے محاذ پر ایک چھوٹی سی چوکی بنا لی۔ میرے پاس توپ نہیں تھی بلکہ زبانوں کا کی بورڈ تھا۔ میرے پاس فوج نہیں تھی بلکہ الفاظ تھے۔ میرے پاس خزانہ نہیں تھا بلکہ وقت تھا۔
اور میں نے وقت زبانوں کی خدمت پر خرچ کر دیا۔
کبھی کسی نے پوچھا کہ اتنی زبانوں کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟
میں نے کہا: اس لیے کہ جس زبان کا آخری بولنے والا خاموش ہو جائے، اس کے ساتھ صرف ایک لفظ نہیں مرتا، ایک پوری دنیا خاموش ہو جاتی ہے۔
میں دنیا دار آدمی ہوں یا نہیں، یہ فیصلہ آپ کریں۔ مجھے تو اتنا معلوم ہے کہ کتابیں میرے گھر میں لوگوں سے زیادہ جگہ گھیرتی ہیں اور حروف میرے ذہن میں کبھی کبھی مہمانوں سے زیادہ شور کرتے ہیں۔
میرے پاس جاگیر نہیں، مگر لفظوں کا ایک چھوٹا سا کھیت ہے۔ اس میں کھوار بھی اگتی ہے، اردو بھی، فارسی بھی اور دوسری پاکستانی زبانوں کے کچھ پودے بھی۔ کبھی تحقیق کی فصل نکلتی ہے، کبھی شعر کا پھول، کبھی ترجمے کا پھل اور کبھی کوئی ایسا سافٹ ویئر پیدا ہو جاتا ہے جسے دیکھ کر خود مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ میں نے کیسے بنا لیا۔
اگر میری زندگی کا حساب مانگا جائے تو میں شاید بہت لمبا حساب نہ دے سکوں۔ البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ جو وقت ملا، اسے لفظوں کے نام کیا؛ جو علم ملا، اسے آگے پہنچانے کی کوشش کی؛ جو زبان ملی، اسے لکھنے کا راستہ دیا؛ اور جو ملک ملا، اس کے نام پر اپنی چھوٹی سی محنت لکھ دی۔
14 اگست کو جب سبز ہلالی پرچم ہوا میں لہراتا ہے تو مجھے اپنے پہاڑ یاد آتے ہیں۔ وہ پہاڑ جو صدیوں سے کھڑے ہیں، مگر ہر نسل انہیں نئے معنی دیتی ہے۔ مجھے اپنی مادری زبان کھوار یاد آتی ہے، جس نے مجھے دنیا کو پہلا نام دیا۔ مجھے اردو یاد آتی ہے، جس نے میرے خیالات کو وسیع میدان دیا۔ اور مجھے پاکستان یاد آتا ہے، جس نے ان دونوں آوازوں کو ایک بڑے قومی مکالمے میں شامل ہونے کا موقع دیا۔
میں کوئی بڑا آدمی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔
میں تو وادیٔ کھوت کا ایک غریب آدمی کا بیٹا ہوں، جس نے لفظوں کے ساتھ زندگی گزار دی۔
کسی نے قلم پکڑا، کسی نے تلوار، کسی نے مشعل۔ میرے حصے میں کیبورڈ آیا۔ میں نے اسی سے کام لیا۔ اور اگر کبھی میری زندگی کا ایک جملے میں تعارف لکھنا پڑے تو میں شاید یوں لکھوں گا کہ
میں اس ملک کا وہ معمولی سا لسانی مسافر ہوں جس نے اپنی مادری زبان کے چند حروف کو ڈیجیٹل دنیا میں جگہ دینے کی کوشش کی، کیونکہ مجھے یقین تھا کہ پاکستان کی اصل خوب صورتی صرف اس کے نقشے میں نہیں بلکہ اس کی زبانوں کی آواز میں بھی محفوظ ہے۔
سو 14 اگست مبارک ہو۔
سبز ہلالی پرچم بلند رہے، وطن آباد رہے، زبانیں زندہ رہیں، اور لفظ انسان کو انسان سے ملاتے رہیں

رحمت عزیز خان چترالی

post bar salamurdu

رحمت عزیز خان

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات، عدلیہ، جرائمز اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button