آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

بےنظیر بھٹو : جمہوریت کی ادھوری کہانی

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

تاریخ کے کچھ دن صرف کیلنڈر کا حصہ نہیں ہوتے، وہ قوم کے مزاج میں شامل ہو جاتے ہیں۔ 27 دسمبر بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جسے پاکستان چاہ کر بھی بھلا نہیں سکا۔ اس دن ایک سیاسی رہنما نہیں مری، اس دن امید، تسلسل اور جمہوری اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاست اقتدار کے گرد نہیں گھومتی تھی بلکہ مزاحمت کے محور پر کھڑی تھی۔ وہ ایک ایسے سیاسی ماحول میں جوان ہوئیں جہاں اقتدار طاقت کے زور پر حاصل کیا جاتا تھا۔ benazir bhuttoاس کے باوجود انہوں نے ووٹ، پارلیمان اور آئین کی بات کی۔ ضیاء الحق کے دور میں جیل، نظر بندی اور مقدمات ان کے لئے اجنبی نہیں تھے۔ جلاوطنی کے سالوں میں بھی وہ پاکستان کی سیاست سے الگ نہ ہوئیں، لندن ہو یا دبئی، ان کی گفتگو کا مرکز ہمیشہ پاکستان رہا۔

2007 میں وطن واپسی کوئی جذباتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک خطرناک سیاسی جوا تھا۔ انہیں اندازہ تھا کہ جان کو شدید خطرہ ہے۔ کراچی میں ہونے والا حملہ اس کا واضح ثبوت تھا۔ اس کے بعد بھی انتخابی مہم جاری رکھنا معمولی بات نہیں تھی۔ عام سیاست دان ایسی صورتحال میں خاموشی اختیار کر لیتا ہے، مگر وہ جلسوں میں جاتیں رہیں، عوام سے خطاب کرتی رہیں، کیونکہ ان کے نزدیک سیاست عوام سے منقطع ہو کر نہیں کی جا سکتی۔

27 دسمبر کی شام راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسہ ختم ہوا۔ نعرے لگے، لوگ منتشر ہونے لگے، فضا میں ایک عام سیاسی شام کا سا شور تھا۔ چند لمحوں بعد یہ شور چیخوں میں بدل گیا۔ گولیاں چلیں، افراتفری پھیل گئی، اور پھر وہ خبر آئی جس نے پورے ملک کو ساکت کر دیا۔ ٹی وی سکرینوں پر سیاہ پٹیاں لگ گئیں، سڑکوں پر لوگ رُک گئے، کئی شہروں میں دکانیں خود بخود بند ہو گئیں۔

یہ صرف ایک فرد کی شہادت نہیں تھی بلکہ اس کے اثرات فوری طور پر سامنے آئے۔ سندھ میں حالات بے قابو ہوئے، ریل گاڑیاں جلیں، سڑکیں کاٹ دی گئیں، خوف اور غصہ ایک ساتھ پھوٹ پڑے۔ ملک ایک بار پھر عدم استحکام کی طرف لڑھک گیا۔ سیاسی عمل جو پہلے ہی کمزور تھا، مزید دباؤ میں آ گیا۔

سانحے کے بعد تحقیقات کا اعلان ہوا، رپورٹیں تیار ہوئیں، مختلف بیانات سامنے آئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوال مضبوط ہوتا گیا۔ اصل ذمہ دار کون تھا اور سچ کیوں دھندلا رہا۔ یہ سوال صرف بے نظیر بھٹو کے چاہنے والوں کا نہیں بلکہ ریاست کے انصاف سے جڑا ہوا سوال بن گیا۔

بے نظیر بھٹو کی سب سے بڑی وراثت ان کا نظریہ تھا۔ وہ اختلاف کی سیاست پر یقین رکھتی تھیں، انتقام کی سیاست پر نہیں۔ وہ جانتی تھیں کہ پاکستان جیسے معاشرے میں جمہوریت ایک مسلسل جدوجہد مانگتی ہے، کوئی ایک دن کا عمل نہیں۔ ان کی سیاست میں کمزوریاں بھی تھیں، فیصلوں پر تنقید بھی ہوئی، مگر یہ بات ماننا پڑے گی کہ انہوں نے سیاست کو مکمل طور پر طاقت کے حوالے نہیں ہونے دیا۔

آج اٹھارہ سال بعد بھی 27 دسمبر ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم نے اس قربانی سے کیا سیکھا۔ کیا سیاست مزید محفوظ ہوئی، کیا اختلاف برداشت بڑھا، یا ہم وہیں کھڑے ہیں جہاں اس دن تھے۔ بے نظیر بھٹو ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں تھیں، وہ ایک دور کی نمائندہ تھیں، اور دور کے خاتمے ہمیشہ خلا چھوڑ جاتے ہیں۔

یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت صرف نعروں سے زندہ نہیں رہتی، اسے قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ کبھی ووٹ سے، کبھی قید سے، اور کبھی جان سے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button