
وادی کشمیر کو دُنیا میں جنت کا ٹکڑا قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں قدرتی وسائل کی فروانی ہے۔ لیکن یہاں ریسرچ کا ماحول بہت ہی کم ہے۔ جو سکالرز یا ریسرچ کرنے والے ہیں انہیں اس طرح کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ اب تو ہر طرف نمبرات کی دوڑ میں تحقیق کا نام تک نہیں رہا۔ اور پھر اب چیٹ جی پی ٹی اور دیگر سہولیات نے اور بھی کام سہل کر دیا۔ اب ہماری تحقیق کرنے کی ریت ماند پڑتی جا رہی ہے’جس کے باعث ایک ایسا معاشرہ جنم لیتا ہے جو سوال کرنے’سیکھنے اور بہتری کی کوشش سے محروم ہوتا ہے۔تحقیق نہ کرنا صرف علمی غفلت نہیں بلکہ مستقبل کی تباہی کی طرف ایک قدم ہے۔
ایسے میں آج بھی کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جو مشکلات حالات’ مالی مشکلات’ کئی رکاوٹوں کے باوجود ہمیں دعوت ِ فکر دیتے ہیں کہ ہمیں لکیر کا فقیر نہیں ہونا چاہیے بل کہ تحقیق کرنی چاہیے۔ ہمیں دورانِ پی ایچ ڈی ریسرچ شدید مشکلات کا سامنا رہا’بظاہر عنوان سے ہزاروں کتب ملی لیکن مواد اس معیار کا نہیں تھا۔ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ علاقائی، قبیلائی تعصب ہے۔ اسے میں ہم مواد نہیں عہدہ’ منصب اور تعلق کی بنیاد پر کتب پر لکھنا اعزا ز سمجھتے ہیں بے شک وہ ایک کہانی ہی کیوں نہ ہو۔ اگر غیر جانبدارنہ اندازسے کتب کو دیکھا جائے جو واقعی بمطابق مواد ریسرچر کے لئے معاون ہیں تو ان میں ایک نام مقصد ِحیات (تحقیق کی دُنیا) کا بھی لازمی ہے۔ مجھے آزاد کشمیر کے ایک اخبار نویس نے بتایا کہ آزاد کشمیر میں معروف ہونیوالی کتاب مقصد ِحیات کے مصنف عابد ضمیر ہاشمی ابتدائی ایام میں پرائیوٹ سکولز اور شام کو اخبارات کے دفاتر میں معمولی تنخواہ پر کام کرتے تھے۔ اس دوران بھی انہیں کالم لکھنے’ پڑھنے کا شوق بہر حال موجود تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی مالی مشکلات’ عد م تعاون کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی محنت جاری رکھی اور ایک کتاب مقصد ِ حیات لکھی۔ جو بظاہر نام سے اسلامی کتاب لگتی ہے لیکن بلا مبالغہ پاکستان کی جامعات میں جو طلباء و طالبات ایم فل’پی ایچ ڈی کے سکالرز ہیں انہیں سب سے زیادہ یہ کتاب معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ہم کسی کی علاقائی، قومی تعصب کی وجہ سے شاید حوصلہ افزائی کرنا گوارا نہیں کرتے۔ میں ان جملہ نوجوانوں سے التماس کرتا ہوں جو مالی مشکلات’ حالات کا رونا رو رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کر کے کیا کرنا ہے؟ انہیں غیر جانبدانہ مشورہ دیتا ہو ں کہ عابد ضمیر ہاشمی کے حالات پڑھیں اور ان کی کتاب کو دیکھیں وہ ایک سکول ٹیچر سے معروف مصنف کیسے بنے؟ ان کی کتاب مقصد ِ حیات ہمیں پیغام دیتی ہے کہ زندگی میں ہر انسان کبھی نہ کبھی اس مقام پر ضرور ہوتا ہے جہاں وہ خود کو مکمل ناکام’ بے سہارا یا بے قدر محسوس کرتا ہے۔ اسی مقام کو ہم "زیرو” کہہ سکتے ہیں۔ مگر وہی انسان اگر اپنے ارادوں کو مضبوط بنائے’محنت’ استقامت’اور صبر کا دامن تھام لے تو وقت کے ساتھ وہ”ہیرو”بن جاتا ہے — نہ صرف دوسروں کے لیے بلکہ خود اپنی نظر میں بھی۔
زیرو سے ہیرو کا سفر آسان نہیں ہوتا۔ یہ راستہ کٹھن ہے، اس میں تنقید’ناکامی’ دھوکہ’تھکن’ اور مایوسی جیسے مراحل آتے ہیں۔ مگر جو لوگ ان سب کے باوجود اپنا مقصد نہیں بھولتے’ وہی منزل کو پا لیتے ہیں۔اس سفر میں سب سے اہم چیز خود پر یقین ہے۔ دُنیا کچھ بھی کہے’ حالات کیسے بھی ہوں’ اگر انسان یہ یقین رکھے کہ "میں کر سکتا ہوں”، تو کوئی چیز ناممکن نہیں رہتی۔ کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جن کے پاس آغاز میں سب کچھ ہوتا ہے’ بلکہ وہ ہوتے ہیں جنہوں نے کچھ نہ ہونے کے باوجود سب کچھ حاصل کر لیا۔
ایسے افراد کی زندگی دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔ ان کی کہانیاں امید جگاتی ہیں’ ان کا سفر سبق دیتا ہے کہ محنت’ خلوص’نیت اور استقامت سے ہر خواب حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔ایسی بھی کوئی رات نہیں جس کی سحر نہ ہو’یہ جملہ صرف ایک شاعرانہ اظہار نہیں’ بلکہ زندگی کی حقیقتوں پر مبنی ایک گہرا فلسفہ ہے۔ ہر رات چاہے جتنی ہی طویل’ تاریک’ خوفناک یا مایوس کن کیوں نہ ہو’بالآخر اس کا اختتام روشنی پر ہوتا ہے۔ یہی اصول ہماری زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
انسانی زندگی میں ایسے لمحے ضرور آتے ہیں جب ہر طرف مایوسی’ ناامیدی اور اندھیرا چھا جاتا ہے۔ دکھ’ تکلیف’ ناکامی’ محرومی اور تنہائی جیسے حالات دل و دماغ کو گھیر لیتے ہیں۔ لیکن تاریخ’ تجربہ اور قدرت کا قانون یہی بتاتا ہے کہ کوئی بھی دکھ دائمی نہیں ہوتا’ کوئی بھی اندھیری رات ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔
قرآن کی تعلیم ہو یا اقوالِ زریں’سب ہمیں صبر’حوصلے اور امید کا پیغام دیتے ہیں۔ "بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے” (الانشراح) ایک ایسا اصول ہے جو انسان کو ہر کٹھن وقت میں سہارا دیتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ جب ہم کسی آزمائش یا مشکل مرحلے سے گزر رہے ہوں تو یہ یاد رکھیں "یہ بھی گزر جائے گا۔”
دنیا کے بڑے بڑے مفکر’ سائنسدان’ ادیب’ یا رہنما جنہوں نے تاریخ رقم کی، ان سب کی زندگی میں بھی راتیں آئیں’اندھیرے چھائے’ لیکن ان کے یقین اور جدوجہد نے انہیں سحر سے ہمکنار کیا۔لہٰذا’زندگی کی تلخ راتوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اپنے رب پر بھروسہ’ محنت’دعا اور صبر وہ چراغ ہیں جو ہر اندھیرے کو چیر کر صبحِ نو کا آغاز کرتے ہیں۔ ہر رات کی سحر ہے۔ ہر آزمائش کی کوئی نہ کوئی آسانی ضرور ہے۔ ہر دکھ کے بعد راحت ہے۔ بس ضرورت ہے یقین’حوصلے اور صبر کی۔ کیونکہ جو لوگ اندھیروں میں چراغ جلانا جانتے ہیں’ان کے لیے سحر ہمیشہ قریب ہوتی ہے۔
مقصد ِحیات (تحقیق کی دُنیا) ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ زیرو سے ہیرو کا سفر صرف مادی کامیابی نہیں؛بلکہ شخصیت کی تعمیر’ مقصد کی تکمیل’اور کردار کی بلندی کا سفر ہے۔ یہ سفر ہم سب کے لیے ممکن ہے — بس ہمت’حوصلہ اور یقین چاہیے!
راجہ عتیق خان








