آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

کیا جنگ ہی حل ہے؟

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بے چینی اور اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ کویت میں امریکی F‑15 جنگی طیارے کے حادثے، اور ایران پر ٹرمپ کی عسکری کارروائی نے خطے میں موجود کشیدگی کو ایک نئی شدت دے دی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی میں ایران کے متعدد فوجی اہداف، میزائل اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی میں اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور فضائی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ اس کشیدگی کے نتیجے میں ایران میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، جن میں اسکول اور شہری علاقے بھی شامل ہیں۔ اس تمام صورتحال نے خطے میں خوف، عدم اعتماد اور عالمی سطح پر سیاسی و معاشی عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے۔

گزشتہ برسوں پر نظر ڈالیں تو مشرق وسطیٰ مسلسل بحرانوں کا شکار رہا ہے۔ غزہ کی حالیہ لڑائی میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ یمن میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی نے لاکھوں افراد کو خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم کر دیا۔ شام میں جاری خانہ جنگی نے ایک پوری نسل کو پناہ گزین کیمپوں میں دھکیل دیا، جبکہ لیبیا میں سیاسی عدم استحکام نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کر دیا۔ ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ کا آغاز تو آسان ہوتا ہے، مگر اختتام انسانی المیے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

علاقائی تناؤ کی موجودہ صورت حال بھی تشویشناک ہے۔ ایران نے میزائل اور ڈرون سرگرمیاں بڑھا دی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب اور قطر نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو چوکس کر دیا ہے۔ ہر معمولی واقعہ بھی بڑے بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ فضائی اور زمینی نقل و حرکت میں اضافہ، سرحدی نگرانی اور فوجی مشقیں خوف اور عدم اعتماد کو بڑھا رہی ہیں۔ یہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں سنجیدہ سفارت کاری اور ثالثی کردار سب سے زیادہ ضروری ہیں۔

جنگ کا سب سے بڑا بوجھ عام انسانوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ غزہ میں تباہ شدہ اسکول، یمن میں بھوکے بچے اور شام کے پناہ گزین کیمپ اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ طاقت کے اس کھیل میں انسانی زندگی کی قیمت سب سے کم ہوتی ہے۔ معیشتیں متاثر ہوتی ہیں، روزگار کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ ایک پوری نسل خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔ ایران اور خلیج میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جس سے ایندھن، بجلی اور اشیائے ضروریہ مہنگے ہو جاتے ہیں اور عوامی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

دفاعی اخراجات کا بڑھتا ہوا حجم بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ خلیجی ممالک ہر سال اربوں ڈالر دفاعی بجٹ میں صرف کرتے ہیں۔ جدید طیارے، میزائل نظام اور دفاعی ٹیکنالوجی پر لگائی جانے والی سرمایہ کاری اگر تعلیم، صحت اور روزگار کے منصوبوں میں لگائی جاتی تو نوجوان نسل کے لیے مواقع پیدا ہوتے اور معاشرتی ترقی کا راستہ کھلتا۔ مگر جب وسائل کی یہ بڑی سرمایہ کاری اسلحے پر جاتی ہے تو نوجوانوں کے مواقع محدود رہتے ہیں اور سماجی ترقی سست پڑ جاتی ہے۔

عالمی طاقتوں کی پالیسی بھی زیر بحث ہے۔ بڑی ریاستیں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں اور انسانیت کی فلاح پر اثر انداز ہونے والے اقدامات کو اکثر نظر انداز کر دیتی ہیں۔ اسلحہ ایک منافع بخش صنعت ہے اور تنازعات اس کی طلب برقرار رکھتے ہیں۔ خطے کے مسائل صرف طاقت کے توازن سے حل نہیں ہو سکتے۔ عالمی سطح پر ثالثی، مذاکرات اور اقتصادی تعاون کے منصوبے ہی دیرپا امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔

مسلم دنیا کی قیادت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مشترکہ فورمز فعال کیے جائیں۔ اقتصادی تعاون کے منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ ممالک کے مفادات امن سے جڑے ہوں۔ جب ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ تجارت اور ترقی کے منصوبوں میں جڑی ہوں تو جنگ کے امکانات کم ہو جاتے ہیں، کیونکہ نقصان ہر طرف ہوتا ہے۔

پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے بھی یہ سبق ہے۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے سے توانائی کے نرخ بڑھتے ہیں، سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے اور عوامی سطح پر مہنگائی اور معاشی دباؤ بڑھتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم علاقائی واقعات سے صرف خوف نہ کھائیں بلکہ اپنے سفارتی اور معاشی دفاعی نظام کو مضبوط کریں اور مستحکم معاشرتی بنیادیں قائم کریں۔

کویت میں پیش آنے والا حالیہ طیارہ حادثہ، ایران پر امریکی حملے، غزہ اور یمن کے جاری بحران، ایران اور خلیجی ممالک کے بڑھتے ہوئے تنازعات سب ہمیں ایک ہی سبق دیتے ہیں: طاقت کی دوڑ میں انسانیت ہمیشہ پس جاتی ہے۔ وقتی برتری شاید حاصل ہو جائے، مگر پائیدار امن صرف اعتماد، مکالمے اور انسان دوستی سے ممکن ہے۔

آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا جنگ واقعی مسائل کا حل ہے؟ یا ہم تاریخ کی وہی غلطی بار بار دہرا رہے ہیں؟ اگر آج انسانیت کو اولین ترجیح نہ دی گئی، تو آنے والی نسلیں ہم سے یہی پوچھیں گی: جب امن کا راستہ موجود تھا تو ہم نے تباہی کا راستہ کیوں اختیار کیا؟

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔ میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔ بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button