- Advertisement -

بائی کے ماتم دار

ایک افسانہ از نیر مسعود

بائی کے ماتم دار
۱

یہ بات کم لوگوں کومعلوم ہوگی، یا شاید کسی کوبھی نہ معلوم ہو کہ لڑکپن میں ایک مدت تک میں دلہنوں سے بری طرح خوف کھاتا رہاہوں۔ خوف کی وجہ ایک روایت تھی جوہمارے خاندان میں پشتوں پہلے کی ایک دلہن کے بارے میں بیان کی جاتی تھی۔

یہ روایت سننے سے پہلے مجھ کو بھی اپنے دوسرے ہم عمروں کی طرح دلہنوں میں ایک کشش محسوس ہوتی تھی۔ کسی شادی میں میری شرکت ہوتی تو میں دلہن کے زیادہ سے زیادہ قریب گھس کربیٹھتا اور اس کے مہندی لگے ہاتھوں کواور اس کے سرخ لباس کو اور اس کے زیوروں کوباربار چھوتاتھا۔دلہن کے پاس سے اٹھتی ہوئی پھولوں اور عطروں کی اور دوسری پہچان میں نہ آنے والی خوشبوؤں کی لپٹیں مجھے اپنی طرف کھینچتی تھیں اور اس کے زیوروں کی ہلکی ہلکی کھنک مجھے اچھے سے اچھے سازوں کی آوازوں سے اچھی لگتی تھی۔ میں یہ بھی دیکھتاتھا کہ ہرعورت دلہن بن کر خوب صورت اورنرم نرم ہوجاتی ہے اس لئے میں ہر دلہن کی عارضی محبت میں گرفتار ہوجاتا اور جب وہ رخصت ہوکر اپنے دولہا کے ساتھ چلی جاتی تو کچھ دیرتک ایسے عاشق کی طرح اداس رہتا جس سے اس کی محبوبہ چھین لی گئی ہو۔

لیکن ایک رات جب خوب بارش ہورہی تھی، میں نے اپنے خاندان کی اس دلہن کا قصہ سنا۔ وہ نکاح کے بعداپنے ماں باپ کے گھر سے رخصت کردی گئی لیکن جب دولہا کے گھر پراسے اتاراجانےلگا تو معلوم ہوا وہ راستے ہی میں مرچکی ہے۔ اس کا نچلاہونٹ دانتوں کے بیچ میں آکر کٹ گیاتھا۔بدن اکڑ چلاتھا اور ایک پرانا کھن کھجورا اس کی پنڈلی میں اترا ہوا تھا۔ پرانے کھن کھجورے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آدمی کی جلد میں اپنی آنکڑے دارٹانگیں پیوست کردیتاہے اور دھیرے دھیرے گوشت کے اندر دھنستا ہوا ہڈی تک پہنچ جاتاہے۔ آخر کچھ اس کے زہر کی وجہ سے مگر زیادہ ترتکلیف سے آدمی مرجاتاہے۔یہ دلہن تکلیف سے مری۔ اگروہ بتادیتی کہ کھن کھجورا اس کی پنڈلی میں لپٹ گیا ہے تو اس کی جان بچ سکتی تھی،لیکن اس زمانے میں کوئی دلہن اگر بول پڑتی تو بےشرم کہی جاتی تھی، اس لئے وہ خاموش رہی اور تکلیف اٹھاتی رہی اورچپ چاپ مرگئی۔

’’اگر وہ نامرادایک بار اُف بھی کردیتی‘‘ یہ قصہ سنانے والی عزیزہ نے کہا تھا، ’’تو کیڑے کوگرم چمٹےسےپکڑ کر کھینچ لیا جاتا، انہیں اس پرمٹھی بھر شکر ہی ڈال دی جاتی، وہیں کا وہیں گھل کررہ جاتا۔‘‘

یہ شکروالی بات میری بھی سمجھ میں آئی اس لئے کہ اس زمانے میں جب بھی گھر میں کوئی بڑا کھن کھجورا نکلتاہم لوگ لپک کر اس پرشکر ڈال دیتےتھے۔ وہ کچھ دیر تڑپتا، پھر گھلنے لگتا اوردیکھتے دیکھتے پانی ہوجاتاتھا۔

مجھےاس بےزبان دلہن کے ساتھ ہمدردی بلکہ اتنی پشتیں گزر جانے کے بعد بھی کچھ محبت محسو س ہوئی لیکن اس کا قصہ یہاں پرختم نہیں ہوا تھا۔ سنانے والی نے آگے بتایاکہ اس کی موت پرخوشی کے گھروں میں کہرام مچ گیا اوردونوں گھروں نے فیصلہ کیا کہ دلہن کواسی طرح، پورے سنگھار کے ساتھ، عروسی جوڑے اور سارے زیوروں سمیت،دفن کیا جاائے اور اسی دن ’’گہنوں سے پیلی‘‘ دلہن کوقبر میں اتاردیاگیا۔

لیکن وہ قبر میں چین سے سونہیں سکی۔ اسی رات ایک آدمی چپکے سے قبرستان میں پہنچا اور تازہ قبر کھول کراس کے اندر اترگیا۔ اس کی چیخیں سن کر آس پاس کے لوگ دوڑے تو دیکھا وہ قبر میں دلہن کے پاس بے ہوش پڑا ہوا ہے اور اس کے ہاتھوں اور چہرے پرزیوروں کے نشان ثبت ہیں۔ دونوں گھروں کے لوگ بھی اطلاع ملتے ہی قبرستان پہنچے۔ تب پتا چلا کہ قبر میں اترنے والا اسی دلہن کاشوہر ہے۔ اسے باہرنکالا جانے لگا تو دلہن کا بدن بھی کچھ دور تک اس کے ساتھ اٹھاچلا آیا، پھر اس سے چھوٹ کر قبرکی زمین پرگرگیا۔

میت کی بعض رسمیں جلدی جلدی پھر سے ادا کرکے قبر کو دوبارہ بندکردیاگیا اور اب لوگ شوہر کی طرف متوجہ ہوئے۔ ہوش میں آنے کے بعد وہ بہکی بہکی باتیں کر رہا تھا۔ پہلے اس نے بتایاکہ دلہن کے زیوروں نے اس کو پکڑلیاتھا اور اس کے بدن میں پیوست ہوئے جارہے تھے۔ پھرکہنےلگا کہ خود دلہن نے اسے دبوچ لیاتھا، پھر بتایاکہ دلہن کا پورا بدن اس کے بدن سے چپک کررہ گیاتھا۔ شروع میں اس نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیاکہ وہ قبر میں اترا کیوں تھا۔ جب اس کے ہوش ذرازیادہ درست ہوئے تو اس نے کہاکہ صرف اپنی دلہن کوایک نظردیکھنے کے لئے اس نے قبرکھولی تھی۔لیکن پھر اپنے آپ ہی اس نے بتایاکہ وہ قبر کے اندر اترکر دلہن کے زیور اتار رہا تھا۔

کئی دن تک وہ باولا ساادھرادھر پھرتا رہا۔ آخر ایک دن لوگوں نے دیکھا کہ وہ اسی قبرستان میں دلہن کی قبرکے پائینتی مراپڑا ہے۔ اس کےبعد سے یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ دلہن کی قبر میں اچھا خاصا خزانہ موجود ہے، کسی کفن چورتک نے ادھر کارخ نہیں کیا۔یہاں تک کہ رفتہ رفتہ وہ قبر بے نشان ہوگئی۔

یہ قصہ سن کر مجھ کوپہلی باردلہن ایک خوفناک چیزمعلوم ہوئی اور بارش کی آواز میں مجھے زیوروں کی مدھم جھنکارسنائی دینے لگی۔ اسی وقت میرے ایک بڑے بھائی بولے: ’’اصل میں دلہن مری نہیں تھی۔ لوگوں نے اسے مردہ سمجھ کرزندہ دفن کردیا اوروہ بے چاری شرم کے مارے بتابھی نہیں سکی کہ میں زندہ ہوں۔‘‘ اس پر کچھ لوگ ہنس پڑے اور قصہ سنانے والی نے ان بھائی کو ڈانٹا کہ ایسی باتوں کا مذاق نہیں بناناچاہئے،لیکن مجھے یہ سوچ کردلہن زندہ دفن تھی، اور زیادہ ڈرلگا اورجب میں نے خود کویقین دلایاکہ وہ قبر میں مری پڑی تھی تو وہ مجھے پہلے سےبھی زیادہ ڈراؤنی معلوم ہونے لگی۔

کئی دن تک مجھ کو اس کا خیال آتارہا۔ کبھی میں اسے زندہ تصور کرتا کبھی مردہ اورہر صورت میں وہ مجھ کو پہلی صورت سے زیادہ ڈراتی تھی اور اس کے زیور اس سے بھی زیادہ ڈراتے تھے، یہاں تک کہ میں شادی کی تقریبوں میں دلہن کے قریب جانے سے، بلکہ شادی کی تقریبوں ہی سے گھبرانے لگا۔کچھ عرصے بعددھیرے دھیرے میراخوف کم ہوناشروع ہوالیکن دلہنوں میں جو کشش مجھ کوپہلے محسوس ہوتی تھی وہ بالکل ختم ہوگئی۔

انہیں دنوں ہمارے مکان کے سامنے سڑک پار کے مکان میں ایک شادی ہوئی جس میں مجھ کوشرکت کرناپڑی۔وہ چھجے والا مکان کہلاتاتھا کیوں کہ اس کی اوپری منزل والے دونوں کمروں کے آگے سڑک کے رخ ایک چھجا بنا ہواتھا۔ اس مکان میں ہم لوگوں کاآنا جانا تھا۔ جس لڑکی کی شادی تھی اس کے دوچھوٹے بھائی میرےدوست تھے۔ لڑکی چلبلی اورباتونی تھی۔ وہ مجھ کوخواہ مخواہ چھیڑاکرتی اورکبھی کبھی ایسی باتیں کرتی کہ میں اس سے کچھ گھبرانے، کچھ شرمانے لگاتھا۔ لیکن مجھ کو اس کی چھیڑچھاڑ اچھی بھی لگتی تھی، جس طرح وہ خوداچھی لگتی تھی۔

شادی کے کام کاج میں گھرکے اندراورباہر اپنے دوستوں کے ساتھ میں بھی لگا رہا۔ کئی بار کسی شعلے کی لپک کی طرح میرے دل میں یہ خواہش ابھری اور دم بھر میں غائب ہوگئی کہ دلہن کے پاس بیٹھوں اوراسے چھوکردیکھوں۔ نکاح کے بعد جب دلہن کی رخصتی کا وقت آیا تو میں نے وہاں سے ٹل جانا چاہا لیکن دوستوں نے مجھ کوپکڑلیا۔ نیچے، مکان کی لمبی ڈیوڑھی میں،عورتوں کا مجمع تھا۔ میں بھی وہیں ایک دیوار سے لگ کر کھڑا ہوگیا۔ کچھ دیرمیں دلہن اوپری کمرے سے نیچے لائی گئی۔ باہرسڑک پرسواری تیار تھی اورڈیوڑھی میں دلہن ایک ایک سے رخصت ہورہی تھی۔ عورتیں باری باری اسے گلے لگاتیں اور زور زور سے روتیں۔ ایسا معلوم ہورہاتھا کہ گھرمیں شادی نہیں موت ہوتی ہے اور ماتم داروں میں رونے کا مقابلہ ہورہاہے۔ اس میں بعض بعض کے منھ ایسے بنتےتھے کہ دیکھ کر ہنسی آجاتی تھی اور میں آئندہ کبھی دوسروں کوہنسانے کے خیال سے دل ہی دل میں ان کے رونے کی نقلیں اتار رہا تھا۔

اسی وقت ڈیوڑھی کے دروازے پرسے کسی مرد نے ڈانٹ کر عورتوں کوچپ کرایا اورکہا کہ دلہن کوفوراً سوار کیا جائے نہیں تو اسٹیشن پہنچتے پہنچتے گاڑی چھوٹ جائے گی۔ ڈیوڑھی میں خاموشی پھیل گئی اور دلہن عورتوں کے جھرمٹ میں اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں کے کندھوں پر جھکی ہوئی، زیوروں کی ہلکی جھنجھناہٹ کے ساتھ آہستہ آہستہ ڈیوڑھی کے باہری دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔ دوعورتیں اس کے نچلے لباس کو چٹکیوں میں پکڑے زمین سے کچھ اوپراٹھائےہوئےتھیں۔ سرخ جوڑے اورلمبے سے گھونگھٹ میں دلہن کاکچھ بھی ظاہرنہیں تھا، البتہ کار چوبی جوتی کو چھوتی ہوئی بھاری پازیب کے اوپر اس کی ایک پنڈلی کی سفیدی دکھائی دے رہی تھی۔ جب وہ میرے آگے سے گزرنے لگی تو مجھے حیرت ہوئی کہ دلہن بننے کے بعدوہ سکڑ کر اتنی سی کیوں رہ گئی۔ اس کوذرا غور سے دیکھنے کےلئےمیں نے اپنے سامنے کھڑی ہوئی دو عورتوں کے بیچ سے گردن تھوڑی آگے بڑھائی اور اس نے معلوم نہیں کس طرح اپنےچہرے پرپڑے ہوئے دہرے گھونگھٹ اورپھولوں اور مقیش کے سہروں کی لڑیوں کے پیچھے سے مجھے دیکھ لیا۔

اس کے بدن میں سر سے پیر تک تڑپ سی پیدا ہوئی اورمجھے ایسا معلوم ہواکہ میرے سامنےکھڑی ہوئی دونوں عورتیں اچانک ایک بڑاسا سرخ دھباہوکر رہ گئیں۔ میں نے زیوروں کی تیزجھنکار سنی اوردیکھا کہ دلہن میرے سامنے پورے قدسے کھڑی ہوئی ہے۔پھر وہ جھکی اور مجھے چمٹا کرزور زور سے رونے لگی۔ پھولوں،عطروں اور دلہن کے بدن کی خوشبوؤں نے مل کر ایک ساتھ مجھ پرحملہ کیا۔ اس کی کلائیوں کے جڑاؤ کنگن مجھے اپنے شانوں میں پیوست ہوتے محسوس ہوئے اوران کی چبھن کے پیچھے اس کے ہاتھوں کا نرم لمس غائب ہوگیا۔ عورتوں نے اس کو کھینچ کر مجھ سے الگ کیا،لیکن اس کےگلے میں پڑےہوئے سونے کے لمبے ہار کا کوئی حصہ میری قمیص کےکھلے ہوئے بٹن میں پھنس گیاتھا۔ چھڑانے کی کوششوں میں وہ کچھ اورالجھ گیا۔

اب دلہن مجھ سے دوتین قدم کے فاصلے پر بالکل جھکی ہوئی کھڑی تھی، میرے اور اس کے بیچ میں سونے کا ہار چمک رہاتھا اور کئی عورتیں میری قمیص کے بٹن کو توڑنے کی کوشش کررہی تھیں۔ ڈیوڑھی میں رونے کی آوازیں تیزہونے لگیں اوراس وقت اچانک مجھے اس دلہن کاخیال آگیا جس کے زیوروں نے ایک آدمی کوچپکالیاتھا۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ میرے سامنے وہی دلہن کھڑی ہے،بلکہ گھونگھٹ اور سہروں کے پیچھے مجھ کواس کامٹیالا چہرہ بھی نظرآنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ وہ قدم اٹھائے بغیرمیری طرف بڑھ رہی ہے اور قریب ہے کہ اس کا بدن مجھ سے یا میرا بدن اس سے چپک کررہ جائے۔ انہیں چند لمحوں کے اندرمجھے یہ بھی محسوس ہواکہ ڈیوڑھی میں اس کے اور میرے سواکوئی نہیں ہے،بلکہ ڈیوڑھی بھی نہیں ہے، ایک تازہ قبر ہے جس کے کھلے ہوئے منھ پرکسی ٹیڑھے بکڑے درخت کی شاخیں جھکی ہوئی ہیں۔

میں پیچھے گھوم کر دیوار سے ٹکرایا،پھر ڈیوڑھی کی بھیڑ کو چیرتاپھاڑتا باہرنکلا اور دلہن کے ہار کی ایک چھوٹی سی سنہری پتی کو اپنی قمیص کے بٹن میں الجھائے ہوئے سڑک پار کرکے بھاگتا ہوا اپنے مکان میں داخل ہوگیا۔

میں نے اپنےگھروالوں کوکچھ نہیں بتایا،لیکن اس واقعے نےمجھے بیمارسا کردیا۔ اپنےمکان کے خالی حصوں میں جاکر مجھے احساس ہوتا کہ ابھی کسی چیز کی آڑ سے کوئی دلہن نکل کرمیری طرف بڑھے گی۔ رات کوسوتے سوتے مبہم آوازوں سے میری آنکھ کھل جاتی اور ناک میں ملی جلی خوشبوئیں آنے لگتیں۔ جو میرے جاگنے کےبعد بھی تھوڑی دیر تک آس پاس منڈلاتی رہتیں۔ پانی برسنے کی آواز یا کسی اور مسلسل شور کے پیچھے مجھے رونے کی آوازیں اورزیوروں کی مدھم سی کھنک سنائی دیتی۔ میں غیر استعمالی کمروں کے خفیف سے کھلے ہوئے دروازوں کے قریب سے ہوکر نہیں گزرسکتا تھا اس لئے کہ کئی مرتبہ مجھے ان کی دراڑوں کے پیچھے غائب ہوتی ہوئی سفیدپنڈلی اور اس پر چپکا ہواسیاہ کھن کھجورا دکھائی دیاتھا۔

چھجے والے مکان کے لوگ شادی کے تھوڑے ہی دن کے اندر کہیں اوراٹھ گئے تھے اور ان کے بعدوہاں ایک بوڑھے میاں بیوی آکررہنے لگے تھے، لیکن جب تک وہ مکان خالی رہا، اس کی ڈیوڑھی کے سامنے سے گزرتے وقت میرے قدم لڑکھڑاسے جاتے تھے۔ اگرکبھی اس کا دروازہ ذرا ذرا سا کھلا نظر آتا تو مجھے شبہ ہوتا کہ میں نے ڈیوڑھی کے اندھیرے میں زیوروں کی چمک دیکھی ہے اور میں یقین کرلیتاکہ اگر دروازے کی جھری سے جھانکوں گا تو مجھ کو وہاں پر دلہن نظرآئےگی۔ چھجے والے مکان کی باتونی دلہن نہیں، مجھ سے کئی پشت پہلے کی چپ چاپ مرجانے والی دلہن۔

میں جانتا تھا کہ یہ سب نظر کے دھوکے اور میرے وہم ہیں لیکن مجھ کونظر کے دھوکے اصلی منظروں سے زیادہ اصلی اوروہم حقیقتوں سے بڑی حقیقت معلوم ہوتے تھے۔

مجھے یقین تھا کہ میری ساری زندگی اسی خوف کے ساتھ گزرے گی، لیکن نوجوانی کا زمانہ آتے آتے لڑکپن کی بہت سی باتوں کے ساتھ یہ خوف بھی دھندلاگیااوردلہن رفتہ رفتہ اپنا اثرکھونے لگی۔اب اس کاذکرکبھی ہمارے گھرمیں چھڑتا تومجھے اس کے قصے میں کئی جھول نظرآتے اور سوچ کرتعجب ہوتا کہ کسی زمانے میں مجھ کو اس سے اتنا ڈرلگتا تھا۔ کبھی کبھی اس ڈرکے ختم ہونے کا خیال کرکے مجھ پرکچھ مبہم سی افسردگی طاری ہوجاتی اور میں سوچنے لگتا تھا کہ شایدوہ وقت دورنہیں جب دلہن کی بے جان یاد اور یاد کا بے جان خوف دونوں میرے ذہن سے ہمیشہ کے لئے محوہوجائیں گے۔

لیکن ابھی کچھ دن ہوئے ان دونوں میں چندلمحوں کے لئے جان پڑگئی تھی۔

اس دن ہمارے رشتہ داروں میں ایک موت ہوگئی تھی۔ ہم لوگ جنازہ لے کر قبرستان پہنچے تو معلوم ہواکہ قبرتیار ہونے میں ابھی دیر ہے اس لئےکہ تین جگہ آدھی چوتھائی قبر کھودنے کے بعد نیچے سے کوئی اورقبر نکل آئی تھی۔ اب چوتھی جگہ پھاؤڑا چلاتا ہوا گورکن ہمیں اطمینان دلارہاتھا کہ یہاں پر کوئی پرانی قبرنہیں نکلے گی۔ جنازے کے ساتھ آنے والے لوگ وقت گزارنے کے لئے قبرستان میں ادھرادھر گھومنےلگے۔ میں بھی ان کی ایک ٹولی کے ساتھ ہولیا۔ میں نے قبرستان کودلچسپی اور توجہ کے ساتھ دیکھا۔ اس لئے کہ بہت دن بعد ادھرآیاتھا اورکچھ ا س لئے بھی کہ یہ ہمارا خاندانی قبرستان تھا۔ لیکن اس میں زیادہ تر دوسرے لوگوں کی قبریں تھیں۔ اصل میں یہاں کوئی بھی دفن ہوسکتا تھا لیکن چوں کہ اس کی زمین میرے اجداد کی دی ہوئی تھی اس لئے اس میں قبرکی جگہ حاصل کرنے کے لئے ہماری اجازت درکارہوتی تھی۔ اس میں کچھ آمدنی بھی ہوجاتی تھی جوقبرستان کے رقبے کو دیکھتے ہوئے بہت کم، نہیں کے برابر تھی۔ اس وقت میرے ساتھ والے لوگ قبرستان کے اسی مالی پہلو پر گفتگو کر رہے تھے لیکن ایسی قانونی زبان میں جو میری سمجھ سے باہر تھی۔

میں نے ان کی باتوں کی طرف سے دھیان ہٹالیا اور دیکھاکہ قبرستان میں درختوں کی تعداد پہلے سےبہت کم ہوگئی ہے اور جوبچے کھچے درخت رہ گئے ہیں ان میں بھی زیادہ ترسوکھ چلے ہیں۔ قبرستان کی چڑھتی ہوئی دھوپ میں مجھ کودرختوں کی کمی اور کچھ زیادہ محسوس ہوئی۔ ہمارے نزدیک جوبے ڈول سا درخت تھا اس کی بھی شاخیں ٹیڑھی بکڑی ہوکر جگہ جگہ سےچٹخ گئی تھیں۔

سیاہ ننگی ٹہنیوں والے اس پورے درخت پرمردنی چھائی ہوئی تھی، لیکن اس کی ایک ڈال، جودرخت کے گھیرے سے آگے نکل آئی تھی،ہری ہری پتیوں سے لدی ہوئی تھی اور زمین کا ایک قطعہ اس کی چھاؤں میں آگیاتھا۔یہ بھی کچھ دن میں سوکھ جائے گی، میں نے ڈال کے نیچے کھڑے ہوکر اسے دیکھتے ہوئے سوچا لیکن اسی وقت میرے ساتھ والوں میں سے کسی نے کہا: ’’یہ درخت ہمیشہ سے ایساہی ہے، سوکھا ہوا اوریہ ڈال بھی ہمیشہ سے ایسی ہی، ہری بھری۔‘‘

بوسیدہ سا غریب آدمی تھا۔ اس نےدیکھا کہ ہم اس کی بات توجہ سے سن رہے ہیں۔ اس نے ہم کو اور زیادہ متوجہ دیکھا تو بولا:

’’شاید یہاں پر کسی دلہن کی قبرہے۔‘‘ اس نے کہا، ’’اسی ڈال کے نیچے۔‘‘

’’کہتے ہیں کوئی دلہن اگر شوہر کے پاس پہنچنے سے پہلے مرجائے تو اس کی قبر پرسایہ کرنے والی ٹہنیاں مرجھاتی نہیں ہیں۔‘‘

ایک لمحے کے اندر میرا لڑکپن، دلہن والا لڑکپن، واپس آگیا۔ وہ لوگ باتیں کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے اورمیں انہیں روک بھی نہ سکا۔ مجھے یقین ہوگیا کہ میں اسی دلہن کی بے نشان قبر پرکھڑا ہوں۔ اپنے پیروں کے نیچے سوکھی ہوئی زمین مجھ کوجھنجھناتی معلوم ہوئی اور اس پرپڑی ہوئی دراڑوں میں سے ایک چوڑی ہوتی دکھائی دی۔

کیا وہ سب پھر سے شروع ہو رہا ہے؟ میں نے سوچا، لیکن میں ڈر نہیں رہاتھا۔ مجھے زمین سے اداسی کی لپٹیں سی اٹھتی محسوس ہوئیں۔ اورجب میں نے ان لپٹوں سے بچنا چاہاتو مجھ کو پہلے کی طرح ڈرلگنےلگا۔ پھر مجھے ضد سی آگئی۔ میں نے بھاگ کھڑے ہونے کی خواہش کو دبایا اور اسی سوکھی ہوئی گرم زمین پرجم کر بیٹھ گیا۔چندلمحوں کادورہ تھا۔ پھرسب کچھ پہلے کی طرح ہوگیا۔

قبرتیار ہو جانے کا اعلان ہو گیا تھا اورقبرستان میں ادھرادھر پھرتے ہوئے لوگ ایک جگہ جمع ہورہے تھے۔ میں اٹھ کر اس مجمعے کی طرف چلا اور راستے بھر افسردگی کے ساتھ سوچتا رہا کہ وہ سب پھر سے شروع ہوکر اتنی جلدی ختم کیوں کرہوگیا۔اب میں سوچتا ہوں، اس کا سبب اس کے سواشاید کچھ نہیں تھا کہ میں جانتا تھا،اگرچہ اس وقت مجھے یاد نہیں آیا تھا کہ اسی قبر میں کہیں پربائی کوبھی دفن کیا گیاہے۔

۲

چھجے والے مکان میں بوڑھے میاں بیوی چپ چاپ آکررہنے لگے تھے اور خاموشی کے ساتھ پرانے ہوگئے تھے۔ مجھ کویہ بھی یادنہیں کہ اس مکان میں ان کے آکر رہنے کا احساس مجھے پہلے پہل کب اورکس طرح ہوا تھا۔لیکن بعدمیں اکثر میں دیکھتا تھا کہ مکان کا بیرونی دروازہ کھلا ہوا ہے اوراندر ڈیوڑھی میں ایک صاحب تخت پربیٹھے ہیں۔ تحت کے پاس کچھ مونڈھے پڑے رہتے تھے جن پر کبھی کبھی محلے کے ایک دوبڑے بوڑھے بیٹھے نظر آتے تھے۔ کئی بار میں نے ان لوگوں کوخاموشی کے ساتھ شطرنج کھیلتے بھی دیکھا۔

اب میں پڑھائی کے خیال سے اپنے مکان کے کھوٹے پرایک کمرے میں رہنے لگاتھا۔ وہاں سےسڑک پاراس ڈیوڑھی کا دروازہ بھی دکھائی دیتا تھا اور اس کے اوپروالے دونوں کمرے بھی۔ چھجے پرآگے کی طرف بغیرپھولوں والے آرائشی پودوں کے گملوں کی قطارتھی اورہردوسرے تیسرے دن ایک بچی چاندی کےموٹے موٹے زیورپہنے تانبے کے قلعی دار لوٹے سے پودوں کوپانی دیتی دکھائی دیتی تھی۔ دونوں مکانوں کے بیچ میں ہمارے یہاں کا باغ بھی پڑتاتھا اور اتنے فاصلے سے وہ بچی ہی نظرآتی تھی۔

بعدمیں، مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ کب، مجھے پتا چلا کہ وہ اس گھر کی خادمہ ہے اور خانم کہلاتی ہے۔ محلے کے سب لوگ اور آس پاس کےسارے دکانداراس سے نہ صرف واقف تھے بلکہ اس کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کرتےتھے۔ وہ پہاڑن تھی اور شاید ان میاں بیوی سے بھی زیادہ عمر کی تھی،لیکن اس کا قد آٹھ دس سال کی بچی سے زیادہ نہیں تھا۔ شاید اسی لئے سب اس سے اس طرح کی باتیں کرتےتھے جیسی بچوں سے کی جاتی ہیں۔ اس کی چال کچھ ایسی تھی جیسے کوئی اسے پیچھے سے ڈھکیل ڈھکیل کرآگے بڑھارہاہو، اور جس طرح وہ چلتی تھی اسی طرح بولتی بھی تھی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہرلفظ اس کےمنھ میں آکر اٹک جاتا ہےاور اس کے بعدآنے والا لفظ اسے ٹھوکر مارکرباہرنکالتا ہے، پھرخود باہر نکلنے کےلئے اپنے پیچھے آنے والے لفظ کی ٹھوکر کا انتظار کرتا ہے۔ محلے کے لڑکےاور بعض دکان دار بھی اس سے اسی کے اندازمیں بات کرتے تھے جس پر وہ کبھی کبھی چڑھ جاتی اور دھمکی دیتی: ’’پولیس سے کہہ دیں گے۔‘‘

لیکن سب کومعلوم ہوچکا تھا کہ دراصل وہ خود پولیس والوں سے ڈرتی ہے۔ شریر لڑکے چپکے سے اس کے پیچھےآتے اور جھک کر اس کے کان میں زور سے کہتے:’’پولس!‘‘

اور وہ اچھل کرٹھمکتی ہوئی بھاگتی،چند قدم کے بعد رکتی اور اٹھلاکر کہتی: ’’پولیس سے کہہ دیں گے۔‘‘

وہ محلے کے گھروں میں آتی جاتی تھی۔ زیادہ تر نوکروں سے باتیں کرنےکے لئے۔۔۔ اور ان میاں بیوی کے بارے میں ہماری معلومات کا خاص ذریعہ تھی۔وہ بیوی کو بائی اور میاں کوصاحب کہتی تھی۔ اسی سے معلوم ہوا کہ یہ بے اولاد لوگ ہیں۔ بائی کے عزیزوں میں کوئی نہیں ہے، صاحب کے دور کے رشتہ دار بہت ہیں جن میں سے کئی اسی شہر میں ہیں لیکن ان سے ان لوگوں کاملنا جلنا کب کا ختم ہوچکا ہے، البتہ ان رشتہ داروں میں جب کوئی بہت بیمار ہوتا ہے یا کسی کے یہاں موت ہوجاتی ہے تو صرف صاحب وہاں ہوآتے ہیں۔ بائی کہیں نہیں جاتیں۔ ان کے گھٹنوں میں پرانی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ان کا بیٹھ کر اٹھنا مشکل اور زینے پر چڑھنا بالکل ناممکن ہے۔

ایک بار اس نے میری والدہ کے سامنے بائی کی اس تکلیف کاذکر کیا تووالدہ نے اسے مالش کے ایک تیل کا آسان سا نسخہ بتایا جس کے ایک جز کے وزن میں انہیں کچھ شک پڑرہا تھا۔ ظالم کے جانے کے بعد والد صاحب گھرکے اندر آئے تووالدہ نے ان سے ان جزکا وزن دریافت کیا۔ اس کے بعد بائی صاحب کی باتیں ہونے لگیں۔ معلوم ہواکہ والدہ صاحب ان دونوں کے حالات سے کچھ کچھ واقف ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ بائی نوجوانی میں شہر کی مشہور گانے والی تھیں۔انہوں نے بائی کا وہ نام بھی بتایا جس سے اس زمانے میں شہر کا ہر شوقین واقف تھا اور یہ بھی بتایاکہ صاحب پرانے رئیس زادے تھے۔ ان کا وقت بگڑگیاتھا لیکن وہ بائی کے گانے کے سب سے بڑے قدردان تھے۔ اسی زمانے میں بائی کے ساتھ ان کی شادی ہوگئی تھی جس کے بعد دونوں شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

’’آپ نے ان کا گانا نہیں سنا؟‘‘ والدہ نے ہنستے ہنستےپوچھا۔ والد صاحب بھی ہنسنے لگے، ’’ہم نہ شوقین نہ رئیس زادے،‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اس وقت اسکول میں پڑھتے تھے۔فیس کے لئے دوڑ دھوپ سے فرصت نہیں ملتی تھی۔ ان کا گانا توکیاسنتے، گانے کی دھوم ضرور سنا کرتے تھے۔‘‘

صاحب کو میں زیادہ ترڈیوڑھی کے اندر بیٹھے دیکھتا تھا جہاں ان کا ناک نقشہ صاف نظر نہیں آتاتھا۔کبھی کبھی وہ مجھے گھر سے باہرنکلتے یا باہر سے گھرمیں داخل ہوتے بھی نظر آئے۔ ان کے ہاتھ میں کٹاؤ کے کام کی سیاہ چھڑی ہوتی تھی اوروہ شہر کے معزز بزرگوں والا مشرقی لباس پہنتے تھے لیکن ان کے سرپر شکاریوںوالا انگریزی ہیٹ ضرورہوتا تھا۔ وہ چھڑی ٹیکتے ہوئے بہت دھیرے دھیرے چلتے تھے لیکن ان موقعوں پر بھی میں نے انہیں دور ہی سے دیکھا۔ کئی بار وہ مجھے بازارمیں بھی دور پرنظر آئےاور میں نے فقط چھڑی اورہیٹ کی وجہ سے ان کوپہچانا۔

بائی کومیں نے اتنا بھی نہیں دیکھا جتنا صاحب کودیکھ لیتا تھا۔ میرے ٹھکانے سے دکھائی دینے والے ان کے دونوں کمروں میں سے ایک کا دروازہ مستقل بند نظر آتا تھا۔ دوسرا دروازہ زیادہ ترصرف اس وقت کھلتا تھا جب خانم گملوں میں پانی ڈالتی تھی، البتہ کبھی کبھی وہ اس وقت بھی کھول دیاجاتا تھا جب فضا میں امس کی کیفیت ہوتی یا اچھی ٹھنڈی ہوا چلنے لگتی۔ ان موقعوں پربائی مجھے کمرے کے اندر مسہری پر بیٹھی دکھائی دیتی تھیں۔ کئی مرتبہ میں نے دیکھا کہ خانم ان کے بالوں میں کنگھی کررہی ہے۔ ایک مرتبہ خود وہ خانم کے کنگھی کرتی نظرآئیں۔ اتنی دورسے ان کا بھی ناک نقشہ کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا، بس یہ اندازہ ہو جاتا تھا کہ وہ بھاری بدن کی سن رسیدہ عورت ہیں۔

پہلے میرا خیال تھاکہ صاحب مستقل نیچے ہی رہتے ہیں لیکن ایک دن جب اس کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا، میں نےدیکھا کہ وہ مسہری پربائی کے سامنے بیٹھے ہیں اورکچھ کچھ دیربعد آگے کوجھک جاتے ہیں اور خانم بار بار ان دونوں کے پاس آتی ہے، واپس جاتی ہے، پھر آتی ہے۔مجھے اندازہ ہوگیاکہ وہ دونوں کھانا کھا رہے ہیں۔ پھریہ منظرمیں نے کئی مرتبہ دیکھا۔ ایک بار یہ بھی دیکھا کہ صاحب زبردستی کوئی چیز بائی کوکھلانا چاہ رہے ہیں اوربائی ادھر ادھر منھ پھیر پھیر کر انکار کر رہی ہیں اور خوب ہنس رہی ہیں۔ اسی وقت خانم پانی لے کر آپہنچی۔ بائی نے اس کی کمر پر ایک ہاتھ مارا اور وہ کندھے اچکااچکا کرہنستی ہوئی واپس چلی گئی۔

میرے گھر والوں کوشاید ٹھیک ٹھیک پتا ہو، لیکن میں اندازے سے بھی نہیں کہہ سکتا کہ صاحب اوربائی کو چھجے والے مکان میں رہتے کتنا عرصہ گزرا تھا۔ اس لئے کہ ان دونوں میں مجھے دلچسپی پیدا نہیں ہوسکی تھی۔ میرے آس پاس کے بے رنگ منظروں میں یہ میاں بیوی بھی شامل تھے جنہیں دیکھنا نہ دیکھنا میرے لئے یکساں تھا۔ شاید اسی لئے مجھ کو اس کا کوئی خاص احساس نہیں ہوا تھا کہ کئی دن سے اس مکان کے اوپری کمرے کا دروازہ نہیں کھلاہے اور نیچے ڈیوڑھی کا دروازہ بھی اندر سے بندرہتا ہے۔ جب ایک دن خانم ہمارے یہاں گرم پانی سے سنکائی کرنے والی ربڑ کی تھیلی مانگنے آئی تو پتا چلا کہ بائی کی طبیعت کچھ دن سے بہت خراب ہے اور صاحب شہرکے باہرکہیں گئے ہوئے ہیں۔ تیمارداری کے متعلق اس نے بتایاکہ بائی صاحب کے رشتہ داروں کے یہاں سے دو عورتوں کو بلوا لیا ہے اوروہ آج ہی پہنچی ہیں۔

اسی دن شام کومیں نے دیکھا کہ بائی کے دونوں کمروں کے دروازے پورے کھلے ہوئے ہیں اور کمروں میں دونئی عورتیں چل پھر رہی ہیں۔ دوسرے دن صبح دو کی جگہ چارپانچ عورتیں نظر آئیں۔ تیسرے دن سہ پہر تک ان کی تعداد اوربڑھ گئی۔ چوتھے دن سورج نکلنے کے کچھ دیر بعد اس مکان سے رونے کی آوازیں آنے لگیں۔

میں کچھ دیر تک ادھر دیکھتا رہا، پھر گھر والوں کوخبر دینے کےلئےنیچے اترا تو دیکھا خانم صحن میں بیٹھی رورہی ہے۔ اس نے بتا دیا تھا کہ بائی کچھ دیر پہلے ختم ہوئی ہیں،تیمارداروں نے ان کےسرہانے سلگانے کے لئے لو بان منگایا ہے اوردکانیں ابھی کھلی نہیں ہیں۔ میری والدہ دالان کی ایک الماری کے سامان میں لوبان کی پڑیابھی ڈھونڈھ رہی تھیں اورخانم سے بائی کی بیماری وغیرہ کی تفصیل بھی پوچھتی جا رہی تھیں۔ اس نے سب کچھ بہت قاعدے سے بتایا اور یہ بھی بتایا کہ صاحب ابھی واپس نہیں لوٹے ہیں، اوریہ بھی ان کی روانگی کے وقت بائی بالکل ٹھیک تھیں اوریہ بھی کہ وہ صرف بائی کو بتاتے تھے کہ وہ کہاں جارہےہیں۔

میں اوپراپنے کمرے میں آگیا۔ بائی کے یہاں رونے کی آوازیں کم ہوگئی تھیں۔ دن چڑھتے چڑھتے آوازیں قریب قریب ختم ہوگئیں۔ لیکن تھوڑی تھوڑی دیر کے بعدڈیوڑھی پرزنانی سواریاں اتررہی تھیں۔ ان کے ساتھ مرد جوہمارے محلے کے نہیں تھے، ڈیوڑھی میں کھڑے رہتے اور اوپر رونے کی آوازیں بلند ہوکر پھرختم ہوجاتیں۔ لیکن ایک بارمیں نے محسوس کیا کہ آوازیں تیز ہوکرکم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہیں، بلکہ اب ایک بے ہنگم شور میں بدل گئی ہیں۔ میں اپنے کمرے کے دروازےپر آکھڑا ہوا۔ بائی کے کمرے میں عجب غدر سا مچا ہوا تھا۔ کوئی رونہیں رہاتھا، سب چیخ رہے تھے، اور سب کی آوازوں پرخانم کی جھٹکے کھاتی ہوئی آواز بالاتھی۔ ہر عورت ہر عورت کی طرف لپک لپک کر کچھ کہہ رہی تھی۔ کسی کو ایک جگہ پرقرار نہ تھا اور خانم تو ایسا معلوم ہوتا تھاکہ روشنی میں آئی ہوئی کوئی چمگادڑ ہے جو کمرے بھر میں منڈلاتی اورایک ایک سے ٹکراتی پھررہی ہے۔

کچھ دیربعد سڑک پرمردانی آوازیں بلند ہوئیں اورمیں نے چھجے کے نیچے دیکھا۔ عورتوں کے ساتھ آنے والے آدمی ڈیوڑھی کے آگے آپس میں جھگڑرہے تھے اور محلے کے دوتین لوگ انہیں سمجھا بجھا رہے تھے۔ دیر تک اوپر اور نیچے کاہنگامہ دیکھنے کے بعد آخر میں نے دیکھا کہ عورتیں ڈیوڑھی سے نکل نکل کر مردوں کے ساتھ واپس جا رہی ہیں۔ وہ زور زور سے بول رہی تھیں اوران کے مردانہیں چپ کرارہے تھے مگر خود زور زور سے بول رہےتھے۔ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ سب کیا کہہ رہے ہیں۔ میں نے پھر چھجے کی طرف دیکھا۔ دونوں کمروں کے دروازے بند تھے۔ خاموشی ایسی تھی گویا وہاں کچھ ہوا ہی نہیں ہو، البتہ ہوا کے ساتھ مجھے ادھر سے لوبان کی خوشبو محسوس ہو رہی تھی۔

میں گھر والوں کو اس ہنگامے کی اطلاع دینے کے لئے نیچے اترا۔ خانم پھر موجود تھی اورپورا قصہ سناچکی تھی۔ اوراب میرے گھرکی عورتیں وہی قصہ دہرارہی تھیں۔ خانم نے بتایا تھا کہ بائی کئی دن سے غفلت میں پڑی رہتی تھیں۔ کچھ کچھ دیر بعد چونک کر صاحب کو پوچھتیں اور پھرغافل ہو جاتی تھیں۔ ایک دن پہلے انہیں پوری طرح ہوش آگیا اور وہ ٹھیک ٹھاک معلوم ہونے لگیں۔ انہوں نے کچھ کھانے کومانگا، پھر خانم سے اپنے زیوروں کے صندوقچے نکلوائے اور سر سے پیر تک سارے زیورپہن لئے۔ انہوں نے تاکید کردی تھی کہ ڈیوڑھی کادروازہ صاحب کےلئے کھلا رکھا جائے۔ رات بھر وہ مسہری پربیٹھی جاگتی رہیں۔ صبح انہوں نے پھرصاحب کوپوچھا، خانم سے کنگھی کرائی اورکاجل کی ڈبیا مانگی۔ خانم ڈبیا لے کرآرہی تھی کہ ان کا دم نکل گیا۔

صاحب کی بہت سی رشتہ دارعورتیں آگئی تھیں۔ روناپیٹنا ہونے لگا۔ کچھ دیر بعد ماتم داروں نے بائی کے ہاتھ پاؤں اورچہرے پرمنھ رکھ رکھ کر رونا اور بین کرنا شروع کردیا۔ اس میں ایک نے روتے روتے بائی کے چہرے پرسے منھ ہٹایا تو دوسری نے دیکھاکہ بائی کے کان کا بندہ غائب ہے۔ اس نے پوچھا بندہ کہاں گیا۔ عورت بولی، جہاں انگوٹھی گئی، اورایک تیسری عورت کی طرف اشارہ کرنے لگی۔ بائی کی انگلی سے انگوٹھی بھی غائب تھی۔ یہ ہنگامے کی ابتدا تھی۔ دیکھتے دیکھتے سب نے ایک دوسرے کوچوری لگانا اور بائی کے ساتھ اپنا قریبی رشتہ بتانا اور ان کے زیوروں پراپنا حق جتانا شروع کیا۔ بات بڑھتے بڑھتے یہاں تک بڑھی کہ لڑنے والیاں بائی پرلپک پڑیں اور ذرادیر میں ان کا مردہ بدن زیوروں سے خالی عورتوں کی اصطلاح میں ننگا ہو گیا۔

مجھ کو خانم کے بیان میں مبالغہ معلوم ہوا۔ میں نے کہا میں خود دیکھ رہا تھا۔ وہاں ایسی لوٹ تونہیں مچی تھی۔ پھرمیں نے جو تھوڑا بہت دیکھا تھا وہ بیان کردیا۔ خانم نے میرے بیان کو بے اعتنائی، قدرےتحقیر کے ساتھ سنا اور جواب میں صرف اتنا کہا کہ وہ تو خود وہاں موجود تھی۔ پھر اس نے بتایا کہ ساری رشتہ دار عورتیں ناراض ہوکر چلی گئی ہیں اوروہ بائی کے پاس محلے کی عورتوں کو بٹھا کر ہمارے یہاں صرف اس لئے آئی ہے کہ ہم لوگ جس طرح بھی بنے صاحب کا پتا لگوا کر انہیں اطلاع کرادیں۔ میرے والد صاحب کو اندر بلوایا گیا۔ انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ صاحب کہاں ہوں گے، لیکن انہوں نے شہر کے دوتین پرانے لوگوں کو، جو ان کے خیال میں صاحب کے واقف کارہوسکتے تھے، پرچے لکھ کر ایک نوکر کے ہاتھ بھجوادیے۔ اب جاکر سب نے دیکھا کہ خانم کی ناک اورکانوں سے کچھ کچھ خون رس رہا ہے اور یہ بھی دیکھا کہ چاندی کے موٹے موٹے زیور جوہروقت پہنے رہتی تھی، اب نہ اس کے ہاتھ پیروں میں ہیں نہ چہرے پر۔ میری والدہ چیخ اٹھیں: ’’اری، کیا تجھے بھی کھسوٹ لیا گیا؟‘‘

’’نہیں۔۔‘‘ خانم نے بتایا، ’’وہ بائی کے زیوربرآمدکرنے کےلئے ایک ایک عورت کوپکڑکر اس کی تلاشی لے رہی تھی مگر عورتیں اسے اچھال اچھال دیتی تھیں۔ آخر اس نے اپنے زیور بھی اتار اتار کر عورتوں پر کھینچ مارے کہ لویہ بھی لے جاؤ۔‘‘

’’وہ بھی تو ہماری بائی کا گہنا تھا۔‘‘ آخر میں اس نے کہا اور بین کر کے رونے لگی۔ اسے مشکل سے اوردیرمیں چپ کرایاجاسکا۔ خون روکنے کی دوا اس نے خاموشی کے ساتھ لگوا لی اور وہیں بیٹھ کر نوکرکی واپسی کا انتظار کرنے لگی۔ اسے کچھ کھانے کو دیا گیا جو اس نے بلاعذر سر جھکا کر کھا لیا۔

نوکر پرچوں کے جواب لے کر آگیا۔ کوئی نہ بتاسکا کہ صاحب کہاں گئے ہوں گے، بلکہ ان لوگوں کویہی پتا نہیں تھاکہ وہ واپس آکراسی شہر میں رہنے لگے ہیں۔

خانم اٹھ کر چلنے کو ہوئی تھی کہ باہر والے نوکر نئی خبریں لائے۔ کسی نے تھانے پر اطلاع پہنچائی تھی کہ بائی کو دن دہاڑے قتل کرکے ان کے زیور لوٹ لئے گئے ہیں۔ ابھی ابھی پولیس والوں نے آکر لاش کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور بیان لینے کے لئے خانم کی تلاش ہو رہی تھی۔ اس وقت ہمیں معلوم ہوا کہ خانم پولیس سے کتنا ڈرتی ہے۔ زیوروں کے بغیر یوں بھی اس کاچہرہ اجاڑہورہا تھا، اب اس پر اور بھی مردنی چھا گئی۔ میرے گھر والے ان حالات پر رائے زنی کر رہےتھے اور وہ پھٹی پھٹی بے نور آنکھوں سے ایک ایک کا منھ تک رہی تھی۔ اوپرسے میرے ایک ماموں جومقدمہ بازی میں ماہر تھے اورکسی مقدمے ہی کے سلسلے میں کانپور سے آئےہوئے تھے، انہوں نے یہ کہہ کر اس کو اور بھی ڈرا دیا کہ یہ معاملہ بہت طول کھینچے گا اور اس کو بار بار گواہی میں پولیس اور وکیلو ں کی جرح کاجواب دینا ہوگا۔ اب جو اس سے بیان دینے کے لئے جانے کو کہا گیا تو وہ زمین پر پچھاڑیں کھانے لگیں۔ وہ کسی کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھی اور بھاگ بھاگ کر ہمارے گھر کی کوٹھریوں میں گھسی جا رہی تھی۔ آخر اس کو زبردستی باہر نوکروں کے حوالے کرکے انہیں بتا دیا گیا کہ اس وقت اس کا ہمارے یہاں چھپ رہنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔

جس وقت چھوٹی چھوٹی ٹانگیں چلاتی اورچیختی مچلتی خانم کو قریب قریب گود میں اٹھا کر باہر پہنچایا جا رہا تھا، میں نے اپنے ماموں کو دیکھا کہ میرے والد اور والدہ کو ایک طرف لے جاکر ان سے چپکے چپکے کچھ کہہ رہے ہیں۔ پھر انہوں نے اشارے سے مجھ کو قریب بلا کر بتایا کہ وہ مجھے اسی وقت اپنے ساتھ کانپور لئے جا رہے ہیں۔

’’اور یہاں یا وہاں۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا، ’’کسی کو مت بتانا کہ تم نے کچھ دیکھا ہے، نہیں تو گواہی میں کھنچے کھنچے پھروگے۔‘‘

والدہ نے دیکھتے دیکھتے سفر کا سامان درست کردیا۔ ہم مکان کے عقبی دروازے سے ہوکر پچھواڑے والی گلی میں آئے، گلی سے دوسری سڑک پر نکلے اور ریلوے اسٹیشن کی طرف روانہ ہوگئے۔

چار پانچ دن بعد مجھے کان پور سے واپس بلا لیا گیا۔ گھرپہنچ کر مجھ کو صرف تین باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک یہ کہ خانم ہمارے نوکروں میں سے کسی کے رشتہ داروں کے یہاں روپوش ہوگئی تھی، لیکن دوسرے دن وہاں سے بھی غائب ہوگئی۔ دوسری یہ کہ بائی کو میرے والد صاحب کی اجازت سے، بلکہ انہیں کی تجویز پرہمارے خاندانی قبرستان میں دفنایا گیا ہے، اور تیسری یہ کہ صاحب کا اب تک پتانہیں۔ میں نے اوپر جاکر اس مکان کو دیکھا۔ چھجے پر رکھے ہوئے گملوں کے زیادہ تر پودے مرجھاگئے تھے، اور نیچے اوپرکے سب دروازے بندتھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انہیں برسوں سے کھولا نہیں گیا ہے۔

۳

صاحب چوتھے دن سہ پہرکو ہمارے یہاں آئے، اسی طرح چھڑی ٹیکتے اور شکاری ہیٹ لگائے ہوئے۔ میں اس وقت مکان کے سامنے والے باغ میں ایک کیاری بنارہا تھا اور والدصاحب قریب کھڑے مجھے ہدایتیں دے رہےتھے۔ صاحب بھی وہیں آگئے۔ والد صاحب نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا،پھر تعزیت کی اورصاحب نے والدکا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے بائی کواپنے قبرستان میں جگہ دے دی۔ وہ فوراً ہی واپس ہو رہے تھے لیکن والد نے ان کو روک لیا۔ شہتوت کے درخت کے نیچے پڑی ہوئی کرسیوں پربیٹھ کر دونوں باتیں کرنے لگے اورمیں کیاری بنا رہا تھا۔ صاحب توقع سے زیادہ دیر تک بیٹھ گئے۔ وہ دھیمی آوازمیں بولتے تھے جس کی وجہ سے ان کی باتیں مجھے صاف سنائی نہیں دے رہی تھیں، لیکن یہ اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بائی کی خوبیاں بیان کر رہے ہیں، جس طرح مرنے والوں کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں، اور مثال کے طور پر کچھ واقعات بھی سناتے جارہے تھے۔

آخر وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ والد نے مجھے اشارہ کیا کہ ان کو سڑک والے پھاٹک تک پہنچانے جاؤں۔ وہ خودبھی باغ سے ملےہوئے چبوترے تک صاحب کے ساتھ ساتھ آئے۔ چبوترے کی بیرونی سیڑھیوں کے پاس رک کرصاحب نے ان سے مصافحہ کیا۔ سیڑھیاں اتر کر دو قدم آگے بڑھے،پھر رکے اور چھڑی پر اپنے پورے بد ن کا زور ڈال کر گھوم پڑے۔

’’آپ مجھے فقط یہ بتادیجئے۔‘‘ انہوں نے بلند آواز میں کہا، لیکن کچھ پوچھنے سے پہلے ہی چپ ہوگئے۔ والد نے کچھ تسلی دینے والی باتیں کہیں اور صاحب مڑکر چھڑی ٹیکتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ پھاٹک پرپہنچ کر انہوں نے میری طرف دیکھے بغیر آہستہ سے کہا: ’’بس بیٹے، جیتے رہیے۔‘‘ اور پھاٹک سے سڑک پر نکل گئے۔

اسی ہفتے ایک دن میں نے اپنے کمرے کا سڑک کے رخ والا دروازہ کھولا تو دیکھا صاحب کی ڈیوڑھی کے سامنےگھریلو اسباب سے لدے ہوئے دو تانگے کھڑے ہیں اور ان کے پاس محلے کے کچھ لوگ آپس میں باتیں کررہے ہیں۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ چھجے پرسے گملوں کی قطار غائب ہے۔ میں وہیں کھڑا رہا۔ کچھ دیربعد صاحب ڈیوڑھی سے نکلے۔ انہوں نے دروازہ باہر سے بند کیا، کنڈی میں پیتل کابڑا سا قفل لگایا اور کنجی محلے کے ایک بزرگ کے ہاتھ میں دے دی۔ پھروہ باری باری سب سے گلے ملے۔ اس میں باربار ان کا ہیٹ بے جگہ ہو جاتا تھا جسے وہ پھر سے سر پر جما کر دوسرے آدمی سے گلے ملتے۔

آگے والا تانگا چل دیا۔ صاحب پیچھے والے تانگے کی اگلی نشست پر کوچوان کے برابر بیٹھے۔ تانگا ذرا سا آگے بڑھا، پھر رک گیا۔ صاحب نے نیچے اترکر کوچوان سے کچھ کہا کہ کوچوان دوسری طرف سے اتر کر آیا۔ اس نے پیچھے رکھا ہوا ایک صندوق اور لکڑی کے اسٹینڈ میں لگی ہوئی پانی کی صراحی اتار کر دونوں چیزیں آگے رکھیں۔ صاحب پچھلی نشست پربیٹھ گئے۔ انہوں نے سامنے کھڑے ہوئے محلے والوں کو دیکھا اور سلام کے لئے ہاتھ اٹھا دیا۔ گھوڑے کی لگام نے ہلکا سا جھٹکا کھایا اور تانگا اگلے تانگے کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔

نیر مسعود

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک افسانہ از نیر مسعود