آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ایمنسٹی کی رپورٹ: مبالغہ یا حقیقت؟

ایک اردو تحریر از یوسف صدیقی

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے نگرانی اور سنسرشپ کا ایک وسیع نظام قائم کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس نظام کو چلانے میں چینی، یورپی اور شمالی امریکی کمپنیوں کی مدد لی جا رہی ہے، اور اس کے ذریعے ریاست تنقیدی آوازوں کو دبانے اور اختلافی رائے کو محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایمنسٹی نے اسے ریاستی نگرانی کی ایک بڑی مثال قرار دیا ہے۔

یہ رپورٹ سننے میں جتنی سنجیدہ لگتی ہے، حقیقت اتنی ہی مختلف ہے۔ اگر پاکستان میں واقعی ایسا سخت سنسرشپ سسٹم موجود ہوتا جیسا کہ رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے تو آج سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف روزانہ کھل کر جو کچھ کہا اور لکھا جا رہا ہے، وہ ہرگز ممکن نہ ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا سوشل میڈیا اس وقت مکمل آزادی کا مظہر ہے، بلکہ بعض اوقات یہ آزادی بدتمیزی اور تضحیک کی سرحدیں بھی پار کر جاتی ہے۔

روزانہ ہزاروں ٹویٹس، پوسٹس اور ویڈیوز میں پاکستان کے ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فوج، عدلیہ اور دیگر اداروں کے خلاف ایسے الفاظ اور جملے استعمال کیے جاتے ہیں جو کسی مہذب معاشرے میں سوچے بھی نہیں جا سکتے۔ بیرونِ ملک بیٹھے کچھ عناصر جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے پروپیگنڈا مہمات چلاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے مخصوص سیاسی اور ذاتی مقاصد کے لیے فوج جیسے ادارے پر کیچڑ اچھالتے ہیں، جو ملک کی سلامتی اور استحکام کی ضمانت ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان میں ایمنسٹی کی بتائی ہوئی ”سخت سنسرشپ” موجود ہے تو پھر یہ سارا مواد کس طرح پھیل رہا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر آزادیٔ اظہار موجود ہے، لیکن افسوس کہ اس آزادی کا غلط استعمال زیادہ ہو رہا ہے۔ تنقید اور تضحیک میں فرق ہے۔ تنقید دلیل کے ساتھ اور اصلاح کے جذبے کے تحت ہو تو مثبت ہے، مگر اداروں کے خلاف گالم گلوچ، ذاتی حملے اور جھوٹے الزامات آزادی نہیں بلکہ انتشار ہے۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ کچھ سیاسی جماعتیں اور بیرونی لابیاں سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ وہ نوجوانوں کو متاثر کرنے کے لیے جھوٹ اور آدھی سچائیوں پر مبنی بیانیے تخلیق کرتی ہیں۔ ایک پوری نسل کو یہ سکھایا جا رہا ہے کہ فوج ہی ملک کے مسائل کی ذمہ دار ہے، حالانکہ یہی فوج دن رات قربانیاں دے کر اس وطن کو دہشت گردی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھتی ہے۔ ایسے میں فوج کو مسلسل ہدفِ تنقید بنانا نہ صرف ادارے کے وقار کے خلاف ہے بلکہ یہ براہِ راست پاکستان کے مستقبل کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ ان تمام حقائق کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ وہ صرف ایک رخ دکھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہے کہ جیسے پاکستان میں آزادیٔ اظہار کا گلہ گھونٹا جا رہا ہو۔ حالانکہ اصل تصویر یہ ہے کہ یہاں آزادیٔ اظہار اتنی کھلی ہے کہ بعض اوقات یہ ریاستی وقار اور قومی یکجہتی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔

ریاستی اداروں کا احترام ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ یہ ادارے صرف ڈھانچے نہیں بلکہ ہماری بقا اور سلامتی کی علامت ہیں۔ آزادیٔ اظہار کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے سیاسی غصے یا ذاتی مفاد میں ان اداروں کو گالی دے، ان کی کردار کشی کرے اور دنیا بھر میں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچائے۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ایمنسٹی جیسی جانبدار رپورٹس کو حرفِ آخر نہ سمجھیں بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے زمینی حقائق کو مدنظر رکھیں۔ پاکستان میں آزادیٔ اظہار موجود ہے لیکن اس آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ برتنا ہوگا۔ اختلاف رائے ضرور کریں مگر اداروں کے تقدس پر حملہ ہرگز نہ کریں۔ ایک مضبوط اور باشعور معاشرہ وہی ہے جہاں آزادی بھی ہو اور اداروں کا احترام بھی محفوظ رہے۔

یوسف صدیقی

post bar salamurdu

یوسف صدیقی

میرا نام یوسف صدیقی ہے اور میں ایک تجربہ کار کالم نگار اور بلاگر ہوں۔ میں نے 2009 سے تحریری دنیا میں قدم رکھا اور مختلف پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات عوام کے سامنے پیش کیے۔ میں نے روزنامہ دنیا میں مختصر کالم لکھے اور 2014 میں بہاولپور کے مقامی اخبار صادق الاخبار میں بھی مستقل لکھائی کا تجربہ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے ڈیجیٹل ویب سائٹ "نیا زمانہ" پر کالم شائع کیے اور موجودہ طور پر بڑی ویب سائٹ "ہم سب" پر فعال ہوں۔میری دلچسپی کا مرکز سماجی مسائل، سیاست اور عمرانیات ہے، اور میں نوجوانوں اور معاشرتی تبدیلیوں کے موضوعات پر مؤثر اور معلوماتی تحریریں پیش کرنے کے لیے کوشاں ہوں۔بلاگ نویسی کا تجربہ: میں تقریباً 15 سال سے مختلف پلیٹ فارمز پر لکھ رہا ہوں۔ میری تحریریں عوامی، سیاسی اور سماجی موضوعات پر مبنی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button