اردو غزلیاتپروین شاکرشعر و شاعری

اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے

پروین شاکر کی ایک اردو غزل

اب اتنی سادگی لائیں کہاں سے

زمیں کی خیر مانگیں آسماں سے

اگر چاہیں تو وہ دیوار کر دیں

ہمیں اب کچھ نہیں کہنا زباں سے

ستارہ ہی نہیں جب ساتھ دیتا

تو کشتی کام لے کیا بادباں سے

بھٹکنے سے ملے فرصت تو پوچھیں

پتا منزل کا میر کارواں سے

توجہ برق کی حاصل رہی ہے

سو ہے آزاد فکر آشیاں سے

ہوا کو رازداں ہم نے بنایا

اور اب ناراض خوشبو کے بیاں سے

ضروری ہو گئی ہے دل کی زینت

مکیں پہچانے جاتے ہیں مکاں سے

فنا فی العشق ہونا چاہتے تھے

مگر فرصت نہ تھی کار جہاں سے

وگرنہ فصل گل کی قدر کیا تھی

بڑی حکمت ہے وابستہ خزاں سے

کسی نے بات کی تھی ہنس کے شاید

زمانے بھر سے ہیں ہم خود گماں سے

میں اک اک تیر پہ خود ڈھال بنتی

اگر ہوتا وہ دشمن کی کماں سے

جو سبزہ دیکھ کر خیمے لگائیں

انہیں تکلیف کیوں پہنچے خزاں سے

جو اپنے پیڑ جلتے چھوڑ جائیں

انہیں کیا حق کہ روٹھیں باغباں سے

پروین شاکر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button