پاکستانی نوجوان اور بیرون ملک ہجرت کا بڑھتا ہوا رجحان
گذشتہ چند سالوں میں پاکستان میں بیرون ملک ہجرت کا رجحان نہایت تیزی سے بڑھا ہے۔ اب تقریباً ہر دوسرا نوجوان یا پڑھا لکھا شہری ملک چھوڑنے کے بارے میں سوچنے لگا ہے، چاہے وہ پہلے سے کسی شعبے میں مستحکم زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا سبب صرف بہتر مالی مواقع یا تعلیم کی تلاش نہیں بلکہ ایک محفوظ اور منظم زندگی گزارنے کی خواہش بھی ہے۔ تعلیم، روزگار کے بہتر امکانات، صحت اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات کی کمی، اور سیاسی غیر یقینی صورتحال نے نوجوانوں کو بیرون ملک جانے کی طرف راغب کر دیا ہے۔
محکمہ برائے امیگریشن و بیرونِ ملک روزگار کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 2022 سے 15 ستمبر 2025 تک تقریباً 29 لاکھ پاکستانی بیرون ملک جا چکے ہیں۔ یہ تعداد نہ صرف نوجوانوں بلکہ تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد کی بڑی تعداد کو بھی ظاہر کرتی ہے، جو ملک کے اندر مواقع کی کمی اور غیر یقینی مستقبل کی وجہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ نوجوان اور والدین چاہتے ہیں کہ بچے ایسے ملک میں رہیں جہاں تعلیم معیاری ہو، صحت کی سہولیات دستیاب ہوں، اور عدالتی انصاف ہر فرد تک پہنچ سکے۔
پاکستان میں مسلسل مہنگائی اور اقتصادی دباؤ نے شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ عام شہری اور نوجوان ایک بہتر مالی مستقبل کی تلاش میں باہر جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ تنخواہیں کم اور بنیادی ضروریات مہنگی ہونے کی وجہ سے بیرون ملک بہتر مالی مواقع نہایت کشش کا سبب بن گئے ہیں۔ مزید برآں، ملک میں ترقی کے محدود مواقع اور روزگار کی کمی نے نوجوانوں میں مایوسی پیدا کر دی ہے۔ کئی نوجوان اپنی قابلیت اور ہنر کے مطابق موزوں ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے بیرون ملک جانے کو ترجیح دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے بہتر زندگی کے امکانات تلاش کر سکیں۔
یہ رجحان صرف مالی فوائد تک محدود نہیں ہے۔ بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو اپنے خاندان کی مالی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ایک محفوظ اور منظم زندگی گزارنے کے مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ترسیلات زر کی شکل میں یہ آمدنی پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم سہارا فراہم کرتی ہے اور کئی خاندان معاشی طور پر خود کفیل ہو جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، بیرون ملک ہجرت کے نقصانات بھی کم نہیں ہیں۔ تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد کا ملک چھوڑ جانا برین ڈرین کا سب سے بڑا سبب بن چکا ہے، جو ملک کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔ جب پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑ دیتے ہیں تو ملک کے اندر باقی نوجوانوں میں مایوسی اور بداعتمادی پیدا ہوتی ہے، اور وہ بھی بیرون ملک جانے کی خواہش کرنے لگتے ہیں۔
بعض افراد بیرون ملک جانے کے بعد تنہائی، ثقافتی تضاد اور گھر والوں سے دوری کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص بیرون ملک جا کر کامیاب نہیں ہوتا اور توقعات کے برعکس زندگی گزارنا بعض اوقات مشکل ثابت ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ویزا حاصل کرنا آج کل کئی نوجوانوں کے لیے ایک پیچیدہ اور خطرناک مسئلہ بن چکا ہے۔ کئی نوجوان دھوکہ باز ایجنٹس کے جال میں پھنس جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی محنت اور وسائل ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کی سنجیدہ توجہ ضروری ہے تاکہ صرف رجسٹرڈ اور قابل اعتماد ایجنٹس کو قانونی اجازت ہو اور متاثرین کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ویزا یا کسی بھی آفر کی تصدیق ایمبیسی یا سرکاری ویب سائٹ سے کیے بغیر کسی بھی رقم کی ادائیگی نہ کریں۔
یہ تمام حقائق بتاتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو ملک میں روزگار، تعلیم، صحت اور تحفظ جیسے بنیادی مسائل پر فوری توجہ دینی چاہیے۔ اگر نوجوانوں کو ان کے اپنے ملک میں باعزت روزگار، محفوظ ماحول اور ترقی کے مواقع دستیاب ہوں تو وہ بیرون ملک ہجرت کی مجبوری سے بچ سکتے ہیں۔ حکومت وقت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کیسے پاکستانیوں کو اپنے ہی وطن میں بہتر مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ یہاں رہ کر ملک کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ نوجوانوں کو بیرون ملک جانے کی خواہش کی وجہ سے ہونے والے معاشرتی اور اقتصادی نقصان سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ملکی سطح پر منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کی جائے۔
اس سلسلے میں نہ صرف حکومت بلکہ معاشرتی ادارے اور تعلیمی ادارے بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ملک میں ہر شہری کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مساوی مواقع ملیں، تو بیرون ملک ہجرت صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ ایک اختیار بن جائے گی، اور نوجوان خود فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ اپنے ملک میں رہ کر ترقی کے مواقع تلاش کریں یا بیرون ملک نئے امکانات کی تلاش میں نکلیں۔ اس سے نہ صرف فرد کی زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ ملک کی ترقی اور استحکام بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
یوسف صدیقی








