آپ کا سلاماردو غزلیاتدانش نقویشعر و شاعری

وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے

دانش نقوی کی ایک اردو غزل

وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے
وگرنہ اس کا اداسی پہ بس تو چلتا ہے

اسے یقین ہی اتنا ہے میرے سینے پر
کسی کا رونا ہو میرے گلے سے لگتا ہے

تمہارا سب سے برا خواب بھی نہیں ویسا
ہمارے ساتھ حقیقت میں جیسے ہوتا ہے

جو لوگ خوش ہیں محبت میں ان سےپوچھوں گا
یہ کاروبار سہولت سے کیسےچلتا ہے

میں اس کے ہاتھ کو چوموں گا پھر بتاوں گا
کہ اس کا جسم دہکتا ہے یا مہکتا ہے

دانش نقوی

post bar salamurdu

دانش نقوی

دانش نقوی آبائی گھر گڑھ مہاراجہ حاضر سکونت خانیوال

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button